خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 227 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 227

خطبات طاہر جلد ۱۲ 227 خطبه جمعه ۱۹/ مارچ ۱۹۹۳ء ہیں جو قیام میں نہیں پکڑے جاتے ، قعدہ میں نہیں پکڑے جاتے ، قعدے میں بعض بیٹھ جاتے ہیں تو بھول ہی جاتے ہیں اور بیٹھے رہ جاتے ہیں اُن کی چوری پکڑی نہیں جاتی مگر بالعموم یہ لوگ رکوع اور سجدے کی حالت میں ضرور جلدی کرتے ہیں اور وہاں سے وہ پکڑے جاتے ہیں۔پس حضور اکرم نے نہ صرف چوری کی نشاندہی فرمائی بلکہ اُن کو پکڑنے کا طریق بھی بتایا۔یعنی اپنے آپ کو پکڑنے کا طریق بھی بتایا۔اگر تم رکوع کرتے وقت تسلی سے ٹھہر کر خدا کی تسبیح نہیں کرتے ، اگر تم سجدہ کرتے وقت تسلی سے سر ٹکا کر خدا کی تسبیح نہیں کرتے۔اُس کا لطف نہیں اٹھاتے تو تم خود اپنی نماز کی چوری کر رہے ہو اور فرمایا یہ چور بدترین ہیں۔بخاری کتاب الصلوۃ سے ایک لمبی حدیث مگر بہت ہی پیاری اور بہت ہی دردانگیز ہے جو میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔جس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ کو نمازوں سے کیسا عشق تھا۔عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ روایت کرتے ہیں۔حضرت سیدہ عائشہ کے پاس گیا میں نے کہا۔آپ مجھے رسول اللہ ﷺ کے مرض کا حال کیوں نہیں بیان کرتیں ؟“ یعنی عجیب انداز ہے پوچھنے کا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض کا حال کیوں نہیں بیان کرتیں ؟ کیسی تکلیف میں تھے، کیا کیا کرتے تھے۔اب مرض کا حال پوچھا گیا ہے اور رسول اکرم کے لیے کا ذکر حضرت عائشہ کس طرح کرتی ہیں۔یہ بھی بہت ہی لطیف مضمون ہے۔پوچھنے والا کہتا ہے مرض کا حال بیان کریں اور جواب سنیئے۔آپ نے فرمایا: اچھا سنو۔رسول اللہ ﷺ بیمار ہوئے۔آپ نے دریافت فرمایا کہ کیا لوگ نماز پڑھ چکے ہیں۔ہم نے عرض کیا نہیں۔یارسول اللہ ﷺ وہ آپ کے منتظر ہیں۔آپ نے فرمایا میرے لئے طشت میں پانی رکھ دو۔کہتی ہیں ہم نے اسی طرح کیا۔پس آپ نے غسل فرمایا یعنی بخار کی شدت کو کم کرنے کے لئے ، بخار کی حالت میں غسل فرمایا۔پھر کھڑا ہونا چاہا مگر غشی طاری ہوگئی۔جب ہوش آیا تو پھر فرمایا لوگ نماز پڑھ چکے ہیں۔ہم بولے نہیں یا رسول اللہ یہ آپ کے منتظر ہیں۔آپ نے فرمایا میرے لئے طشت میں پانی رکھ دو۔ہم نے ایسا ہی کیا۔آپ نے غسل فرمایا پھر کھڑا ہونا چاہا لیکن بے ہوش ہو گئے۔پھر جب افاقہ ہوا تو فرمایا۔کیا لوگ نماز پڑھ چکے ہیں؟ ہم نے عرض صلى الله