خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 226
خطبات طاہر جلد ۱۲ جنت عطا کروں۔226 خطبہ جمعہ ۱۹/ مارچ ۱۹۹۳ء د محضرت ﷺ نے فرمایا۔حضرت ابو ہریرہ کی روایت ہے۔کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں جس سے اللہ تعالی گناہ مٹا دیتا ہے اور درجات بلند کرتا ہے۔کیسا پیارا انداز ہے گفتہ گفتگو کا۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ضرور بتائیے آپ نے فرمایا۔سردی وغیرہ کی وجہ سے ( یعنی محذوف ہے یہ بات۔) دل نہ چاہنے کے باوجود خوب اچھی طرح وضو کر نا مسجد میں دور سے چل کر آنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا یہ بھی ایک قسم کا رباط یعنی سرحد پر چھاؤنی قائم کرنے کے مترادف ہے۔آپ نے یہ بات دو دفعہ دہرائی۔آنحضرت ﷺ کا یہ طریق تھا کہ بسا اوقات اپنی نیکیوں کا ذکر اپنا ذکر کئے بغیر کرتے تھے اور اپنی بعض عادتیں بغیر نام لئے بتایا کرتے تھے۔مثلاً زخم پہنچے ہیں غیروں کی طرف سے تو فرمایا ایک نبی کو اس طرح زخم پہنچے تو اس نے یہ دعا کی۔یہ آپ کا خاص انداز تھا۔اپنی نیکیوں پر پردے ڈالنے کا۔تو آنحضور کے اوپر سب سے زیادہ یہ حدیث صادق آتی ہے۔سب سے زیادہ آپ کا دل نماز میں اٹکا رہتا تھا۔ایک نماز ختم ہوتے ہی دوسری نماز کا انتظار رہا کرتا تھا اور آپ نے جیسے اپنی سرحد پر جیسے حفاظت کے گھوڑے باندھے ہیں۔دنیا میں کوئی ایسا پیدا نہیں ہوا جس نے اس طرح اپنی نیکیوں کی حفاظت کی ہو۔ایک موقع پر حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔یہ صحیح ابن خزیمہ سے حدیث لی گئی ہے۔حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔آپ نے فرمایا بدترین چور وہ ہے جو اپنی نماز کی چوری کرے۔اسوأ الناس سرقة الذي يسرق من صلوته ( صحیح ابن خزیمہ کتاب الصلوۃ حدیث نمبر ۶۶۳) عجیب بات ہے کہ سب سے بدترین چور وہ ہے جو اپنی نماز کی چوری خود کرتا ہے صحابہ نے تعجب سے پوچھا اے اللہ کے رسول ! نماز کو چرانے کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا کہ نماز کی چوری کا مطلب یہ ہے رکوع اور سجدہ ٹھیک سے نہ کرے۔یہ مثال ہے اور واقعہ یہ ہے کہ بہت سے نمازی نماز پڑھتے ہیں تو خصوصاً رکوع اور سجدے میں اتنا تحمل سے کام نہیں لیتے، اتنا انتظار نہیں کرتے کہ تسلی کے ساتھ وہاں جو نبی اور تحمید ضروری ہے وہ ادا کر سکیں یا ذکر الہی کر سکیں۔اُن کا ایک سرعت کی حالت میں سر اٹھانا، صاف بتارہا ہوتا ہے کہ نماز میں اُن کا رجحان کیا ہے؟ پس حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ نے چوروں کی مثال دی ہے مگر وہ جگہ بتائی جہاں چور پکڑے جاتے ہیں ورنہ بہت سے نمازوں کے چور