خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 225
خطبات طاہر جلد ۱۲ 225 خطبہ جمعہ ۱۹/ مارچ ۱۹۹۳ء حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔جہاں حدیث میں یہ الفاظ ہوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ایسی حدیث کو حدیث قدسی کہا جاتا ہے یعنی وہ مضمون اگر قرآن کریم میں واضح طور پر بیان نہ ہوا ہو تو خدا تعالیٰ نے دوسری وحی کے ذریعے ے پر وہ مضمون روشن فرمایا ہوتا ہے۔پس وحی کا ہی مرتبہ اس حدیث کو حاصل ہوتا ہے۔آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔میں نے تیری امت پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔“ (سنن ابو داؤد کتاب الصلوۃ حدیث نمبر : ۴۳۰ ) اب قرآن کریم میں تو یہ الفاظ نہیں ہیں کہ میں نے تیری امت پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ظاہر ہے کہ جبرائیل نے الگ پیغام ان الفاظ میں خدا تعالیٰ کا پہنچایا ہے اور میں نے یہ عہد کیا ہے کہ جو میرے پاس ایسی حالت میں آئے گا کہ اُس نے نماز میں اپنے وقت پر پڑھنے کا التزام کیا ہو گا۔میں اُسے جنت میں داخل کروں گا اور جس نے اُن کی حفاظت نہ کی ہوگی۔وہی يُحَافِظُونَ والا مضمون ہے۔اس کے لئے میرے پاس کوئی عہد نہیں ہے۔بے نماز خدا کے عہد سے باہر ہو جاتے ہیں اور وہ نمازی بھی جو نماز تو پڑھتے ہیں مگر حفاظت نہیں کرتے۔حفاظت کا مضمون بیدار مغزی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ہر نماز سے پہلے باشعور طور پر یہ خیال پیدا ہوتا ہے۔میری نماز ہے قیمتی چیز ضائع ہونے کا خطرہ ہے اور قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ یہ کی نماز کے وقت بھی۔کئی قسم کے وجود آپ کی نماز پر ڈاکے ڈالنے کی کوشش کرتے تھے۔آپ کی توجہ ہٹانے کی کوشش کرتے تھے۔سورہ جن میں اس کا تفصیلی ذکر موجود ہے۔پس عام آدمی کی نمازیں ہوں یا صلى الله محمد رسول اللہ یہ کی نمازیں ہوں۔نمازوں پر غیر کا حملہ ہوتا ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ محمد رسول اللہ ہ اپنی نمازوں کے محافظ تھے اور خدا بھی آپ کی نمازوں کا محافظ تھا۔آپ کی نمازوں پر کوئی غیر چیز اثر انداز نہیں ہوسکتی۔مگر درجہ بہ درجہ جوں جوں نیچے اترتے ہیں، نمازوں کو مزید خطرات در پیش ہوتے ہیں اور ایک عام آدمی کی نمازیں تو اگر وہ غور کرے تو اُسے محسوس ہوگا کہ اکثر خالی جارہی ہیں۔قسمت کوئی نماز جاگتی ہوگی ، قسمت سے ہی کسی نماز کا برتن بھرتا ہوگا ورنہ اکثر خالی برتن بجتے رہتے ہیں اور انسان سمجھتا ہے کہ میں نماز کی حفاظت کر رہا ہوں۔پس جس نے حفاظت کی ، پانچ وقت کی نمازیں ہی پڑھیں اور حفاظت کی۔اللہ فرماتا ہے کہ وہ میرے عہد میں داخل ہے۔مجھ پر فرض ہے کہ میں اُسے