خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 222
خطبات طاہر جلد ۱۲ 222 خطبه جمعه ۱۹/ مارچ ۱۹۹۳ء نماز پڑھنے والے مستثنیٰ ہیں، وہ تنگی ہو یا ترشی ہو، مشکل ہو یا آسانی ہو، ہر حال میں اپنی نیکیوں پر قائم رہنے والے لوگ ہیں اور اُن کی نیکیوں کا مرکزی نقطہ نماز ہے۔فرمایا جو اپنی نمازوں پر دائم ہو چکے ہوں وہ مستقلی ہیں ، ان کو کوئی بدلتی ہوئی حالت خدا سے دور نہیں کرسکتی ، وہ بدلتی ہوئی حالت تم کو نقصان نہیں پہنچاسکتی کیونکہ نمازیں ہمیشہ کے لئے قائم ہیں ، تو ان کی نیکیاں ہمیشہ کے لئے قائم ہیں ، اُن کی اللہ کے حضور حضوری ہمیشہ کے لئے قائم ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَالَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمُ يُحَافِظُونَ (المومنون: ۱۰) وہ لوگ جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔أُولَيكَ هُمُ الورِثُونَ (المومنون (۱۱) یہی ہیں جو نیکیوں اور جنتوں کے وارث بنائے جائیں گے۔پس نمازوں پر دائم ہونا کافی نہیں جب تک حفاظت کا مضمون ساتھ شامل نہ کیا جائے کیونکہ یہ ایک ایسی چیز نہیں ہے جسے نظر انداز کر دیا جائے تو تب بھی باقی رہے گی ، حفاظت چاہتی ہے، پرورش چاہتی ہے اور یہ مضمون بہت وسیع اور تفصیلی ہے۔اس کے کچھ حصوں پر میں روشنی ڈال چکا ہوں۔پھر انشاء اللہ بعد میں کسی وقت روشنی ڈالوں گا۔زمیندار اس مضمون کو خوب سمجھتے ہیں کہ جب پودا لگایا جاتا ہے تو شروع میں اُس کی زیادہ حفاظت کی جاتی ہے اور وہ حفاظت ہے جو اُس کو دوام بخشتی ہے۔جب وہ دائم اور قائم ہو جائے پھر بھی وہ حفاظت چاہتا ہے۔آپ نے ایسے باغ دیکھے ہوں گے جو اجڑ جایا کرتے ہیں کیونکہ اُن کی رکھوالی کرنے والا کوئی نہیں۔لیکن چھوٹی عمر کے جو پودے ہیں وہ تو ذرا غفلت ہوئی تو مر جایا کرتے ہیں۔تو نمازوں کے ساتھ دوام کا بھی مضمون ہے ، حفاظت کا بھی مضمون ہے۔ان دونوں چیزوں کا گہرا تعلق ہے۔اگر آپ اپنی نمازوں کو دوام بخشا چاہتے ہیں تو حفاظت کریں۔ابتداء میں زیادہ حفاظت کریں جس طرح بچوں کی حفاظت کی جاتی ہے، جس طرح چھوٹی چھوٹی کونپلوں کی حفاظت کی جاتی ہے اور پھر یہ نہ سمجھیں کہ اُس کے بعد حفاظت سے غافل ہو جائیں تو نماز پھر بھی دائم رہے گی۔نماز کو دائم رکھنے کے لئے حفاظت کو بھی دائم رہنا ہوگا کیونکہ نماز پر کئی قسم کے حملے ہوتے ہیں۔محض نماز چھوڑ دینا دوام کے خلاف نہیں ہے، نماز کے اندر ایک حالت ہے جس کی حفاظت ضروری ہے۔بظاہر نماز ادا ہوتے ہوئے بھی نماز ضائع ہو سکتی ہے۔پس اپنی نمازوں کی اس طرح فکر کریں جیسے قرآن کریم فرماتا ہے۔