خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 212 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 212

خطبات طاہر جلد ۱۲ 212 خطبه جمعه ۱۲ / مارچ ۱۹۹۳ء خدا تعالیٰ چاہتا تو دوسری امتوں کی طرح اس امت میں کوئی قید نہ رکھتا مگر اس 66 نے قیدیں بھلائی کے واسطے رکھی ہیں۔۔۔“ یہ بہت ہی عظیم مضمون ہے دیکھیں شریعت لعنت نہیں ہے بلکہ شریعت نعمت ہے اور وہ لوگ جنہوں نے شریعت کو لعنت قرار دیا، اُن کے دل کی لعنتیں تھیں جنہوں نے اُن کے ذہنوں کو ماؤف کر دیا ہے۔وہ سمجھ نہیں سکتے کہ قوانین بہتری کے لئے بنائے جاتے ہیں۔دنیا میں جتنی سولائز یشن ترقی کر رہی ہے اتنا زیادہ انسان قانون بنا رہا ہے۔انسانی قانون تجربے کے نتیجے میں صیقل ہوتے چلے جاتے ہیں اور صاف ہوتے چلے جاتے ہیں۔بعض دفعہ پہلے حال سے بھی گر جاتے ہیں۔یہ قرآن کریم کا کمال ہے اُس نے قیامت تک کی ضرورتوں کے لئے قوانین بنائے ہیں اور صلى الله حضرت اقدس محمد رسول اللہ علیہ نے اُن قوانین پر عمل کرنا سکھایا ہے۔یہ عجیب معجزہ ہے اور ان قوانین میں کوئی تبدیلی نہیں پھر۔روز مرہ پتا لگے، یہ نقص رہ گیا تھا، اس لئے یہ تبدیلی کر دی جائے۔ہر امکانی مجبوری کے لئے ایک امکانی رستہ کھول دیا گیا ہے۔حیرت انگیز مذہب ہے۔پس ہر قانون جو پابندی عائد کرتا ہے، وہ سوسائٹی کی بھلائی کے لئے اور فرد کی بھلائی، دونوں کی بھلائی کے لئے قانون پابندی عائد کرتا ہے۔کوئی یہ نہ سمجھے کہ قید بُری چیز ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔۔۔۔قیدیں بھلائی کے واسطے رکھی ہیں۔میرے نزدیک اصل یہی وو ہے انسان صدق و کمال اخلاص سے باری تعالیٰ میں عرض کرتا ہے کہ اس مہینے میں مجھے محروم نہ رکھ تو خدا تعالیٰ اسے محروم نہیں رکھتا اور ایسی حالت میں انسان ماہ رمضان میں بیمار ہو جائے تو یہ بیماری اس کے حق میں رحمت ہوتی ہے کیونکہ ہر ایک عمل کا مدار نیت پر ہے مومن کو چاہئے کہ وہ اپنے وجود سے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی راہ میں دلاور ثابت کر دے۔۔۔“ خدا کی راہ میں مشقتیں برداشت کرنے کے لئے بہادری دکھائے ، اپنے آپ کو جرات سے پیش کرے۔وو۔۔۔جو شخص کہ روزے سے محروم رہتا ہے مگر اس کے دل میں یہ نیست درد دل سے تھی کہ کاش میں تندرست ہوتا۔اور روزہ رکھتا اور اس کا دل اس