خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 209 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 209

خطبات طاہر جلد ۱۲ 209 خطبه جمعه ۱۲ / مارچ ۱۹۹۳ء وہ بھی سامنے بیٹھی ہوں گی لیکن اس وقت تو سب کے نام نہیں لے سکتا۔مجھے پتا ہے کہ کون کہاں کہاں بیٹھا ہوا ہے۔افریقہ میں بھی خطبہ پہنچنا شروع ہو گیا اللہ کے فضل سے لوگ سن رہے ہیں۔یہ بات میری یا درکھیں کہ نماز کے قیام کے بغیر احمدیت کی کوئی حقیقت نہیں ، اسلام کی کوئی بھی حقیقت نہیں، روزے کی کوئی حقیقت نہیں۔روزہ دراصل آپ کو عبادتوں پر قائم کرنے کے لئے آتا ہے اور روزے کے اپنے فوائد ہیں جو الگ ہی ہیں لیکن مرکزی فائدہ رمضان کا یہ ہے کہ آپ کو عبادتوں کا مزہ چکھاتا ہے، عبادتوں پر قائم ہونے کے راز بتاتا ہے اور کچھ دیر ہاتھ پکڑ کر زبردستی چلاتا ہے تا کہ پھر آپ چلتے رہیں یہ تو مطلب نہیں کہ رمضان ختم ہوا تو آپ بھی وہیں رک کر کھڑے ہو جائیں اس کا حل کیا ہے؟ سورہ فاتحہ میں خدا تعالیٰ نے اس کا حل بیان فرمایا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اگر نمازوں میں توجہ پیدا نہ ہو ، کمزوری ہو ، بار بار اٹھائیں، بار بار گر جائیں تو پھر سورۂ فاتحہ میں خدا تعالیٰ کی حمد کے بعد یہ دعا توجہ سے کیا کرو۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاته : ۵) جس کا مطلب یہ ہے کہ اے خدا ہم تیری عبادت کرتے ہیں یا کرنا چاہتے ہیں، دونوں معنی ہیں یا کریں گے۔تو ہر شخص اس کے اندر داخل ہو جاتا ہے، کوئی ایک بھی مسلمان نہیں ہے جو اس دعا کے وقت کسی نہ کسی گروہ سے متعلق نہ ہو، اگر نمازوں کا عادی نہیں ہے تو اُس کی دعا کا معنی یہ بنے گا کہ اے خدا ہم تیری عبادت کرنا چاہتے ہیں اور کریں گے مگر طاقت نہیں۔اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ تجھ سے مدد چاہتے ہیں۔نماز پڑھنے کی تمنالے کر حاضر ہو گئے۔اب تجھ سے مدد چاہتے ہیں ہمیں نمازوں پر قائم فرما دے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔اگر اس طرح توجہ اور الحاح کے ساتھ اپنے آپ کو خدا کے حضور پھینک دے گا اور نہتا اور بے بس سمجھے گا اور یہ عرض کرے گا کہ اے خدا جس کی حمد کے ہم نے گیت گائے ہیں، تجھ سے تعلق کی تمنا پیدا ہو چکی ہے۔اب تو فضل فرما اور ہمیں نمازیں پڑھنے کی توفیق بخش اور نمازوں سے زیادہ سے زیادہ استفادے کی توفیق بخش۔تو پھر اللہ تعالیٰ اس دعا کوضرور سنتا ہے۔ضرور مددفرماتا ہے۔جس طرح استغفار کے بغیر فضل ہمیں نصیب نہیں ہو سکتے۔اُسی طرح اس دعا کے بغیر دعائیں مقبول نہیں ہوسکتیں کیونکہ اسی آیت کا ایک اور معنی ہے جو اس پہلے معنی کی کوکھ سے پھوٹتا ہے۔جس طرح بچہ ماں کے پیٹ سے جنم لیتا ہے۔اسی معنی سے اسی آیت کا ایک اور معنی پھوٹتا ہے اور وہ ہے اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ کہ اے خدا جب تیری عبادت کرتے ہیں کسی اور