خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 206
خطبات طاہر جلد ۱۲ 206 خطبه جمعه ۱۲ / مارچ ۱۹۹۳ء وقت اُس میں غوطے مارے اور نہائے ، اپنے جسم کو مل مل کر صاف کرے۔اُس کے جسم سے سب آلودگیاں مٹتی چلی جاتی ہیں اور وہ پانچ وقت کی نمازیں ہیں جو ایک جاری نہر ہے جو تمہارے ساتھ بہہ رہی ہے۔( بخاری کتاب المواقيت الصلوۃ حدیث نمبر : ۴۹۷) اس میں غوطہ مارا کرو، صاف ہوا کرو تا کہ روزمرہ پیدا ہونے والی آلودگیاں ساتھ ساتھ ڈھلتی رہیں اور اس طرح بخشش کا مضمون جاری رہتا ہے جب بخشش ہو پھر مقام محمود نصیب ہوتا ہے اور اس طرح ہر انسان کا مقام محمود اپنا اپنا ہے۔ایک بچے کو آپ پیار کرتے ہیں مگر اُس وقت نہیں جب اُس کا پوتڑا گندہ ہو چکا ہو، جب بد بوئیں چھوٹ رہی ہوں، جب ناک بہہ رہے ہوں، گندگی منہ پر گئی ہو۔آپ اٹھا کے اُس کی ماں کی گود میں پھینکتے ہیں۔جب وہ صاف ستھرا ہو کر بخشش پانے کے بعد یعنی دنیا کی آلودگیاں، ان کو میں گناہوں کی مثال کے طور پر پیش کر رہا ہوں۔آلودگیوں سے پاک ہو کر جب آپ کو دکھائی دیتا ہے تو اُسی بچے کو ماں سے چھین چھین کے اپنی گود میں لیتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ بخشش ماں کی گود میں ہے۔یہ وہ دوسرا پہلو ہے جس کی طرف میں آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔اللہ کی گود کے سوا کہیں بخشش نہیں ہے، بار بار خدا کی گود میں لوٹنے کا نام نماز ہے اور گود میں جا کر حاضر ہونے کا کہاے خدا ہم پھر گندے ہو کر تیرے حضور حاضر ہوئے ہیں، اب ہم کیا کریں کہ اللہ صاف کرے گا ، اللہ پاک کرے گا۔پھر اس دنیا کی زندگی میں نکلیں گے، پھر آلودگیاں ہوں گی ، پھر دوڑ کر اللہ کے حضور حاضر ہوں گے۔وہ ماں جب تمہیں پاک کرے گی۔پھر تمہیں مقام محمود عطا ہوگا۔اس دنیا کو بھی پیارے لگو گے، اُن دیکھنے والی آنکھوں کو پیارے لگو گے جو حمد کا مضمون جانتی ہیں ، جن کو پتا ہے کہ حقیقی قابل تعریف کیا چیز ہے؟ پس قرآن کریم نے ان آیات میں ان دونوں مضامین کو کس طرح عمدگی کے ساتھ بیان فرمایا اور کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ ہمیشہ کے لئے باندھ دیا۔اَقِمِ الصَّلوةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلى غَسَقِ الَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ پانچوں وقت کی نمازیں، جمع وہ نفل کی نمازیں اس ایک آیت کے اندر سمیٹ دی گئیں نماز قائم کرو أَقِمِ الصَّلوةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَى غَسَقِ الَّيْلِ جب سورج کی روشنی کم ہو رہی ہو یعنی ظہر وعصر کی نمازیں اس میں آ گئیں۔اُس وقت تم نماز ادا کرو۔اَقِمِ الصَّلوةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلى غَسَقِ الَّيْلِ یہاں تک کہ شام رات