خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 205 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 205

خطبات طاہر جلد ۱۲ 205 خطبه جمعه ۱۲ / مارچ ۱۹۹۳ء مقام محمود پر فائز تھے۔ہمیں بتایا کہ حمد سے پہلے بخشش ضروری ہے اور بغیر بخشش کے نہ انسان حمد کی اہلیت رکھتا ہے ، نہ محمود بن سکتا ہے۔پس تہجد کی دعاؤں میں سب سے زیادہ اپنی بخشش پر زور دیں جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے اپنے سامنے اپنے گناہوں کے جلوس نکالیں۔ایک ایک جگہ ٹھہر کر دیکھیں کہ آپ کیا کرتے رہے ہیں۔کس کس جگہ اپنے نفس کی غلامی کی ہے اور خدا کی غلامی سے اپنی گردنوں کو آزاد کیا ہے وہی مقام ہے جہاں آپ نے شیطان کی غلامی کی ہے اور خدا سے آزادی کا نام شیطان کی غلامی ہے درمیان میں کوئی چیز نہیں ہے۔No man,s land کوئی نہیں۔جہاں آپ دو چار سانس آزادی کے ساتھ بسر کر سکیں اگر خدا سے آزاد ہوئے ہیں لازماً شیطان کے غلام بنے ہیں۔تو اُن زنجیروں کو توڑ کے پھینکیں گے تو پھر آزادی کے سانس نصیب ہوں گے اُس کے بغیر کیسے ہو سکتے ہیں۔پس حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی اس نصیحت کو حرز جان بنائیں اور بقیہ رمضان جو باقی ہے اس میں خصوصیت سے اپنے نفسوں کو گناہوں سے پاک کرنے کے لئے بخشش طلب کرنے صلى الله کی طرف غیر معمولی توجہ کریں۔وہ کون سی رات ہے جو لیلۃ القدر کہلاتی ہے۔ایک رات تو وہ ہے جب انسان بخشا جائے الله اور آنحضرت ﷺ نے جو مختلف جگہ لیلۃ القدر کا مضمون بیان فرمایا۔میں تو اس سے یہی سمجھا ہوں کہ حقیقت میں لیلۃ القدروہ رات ہے جس میں انسان بخش دیا جائے اور ایک نئی پاک زندگی بسر کرے اور ایک نئی پیدائش اُسے نصیب ہو۔پاک صاف ہو کر خدا کے حضور حاضر ہو پھر بھی اپنے آپ کو مسلسل دھوتا ر ہے۔جیسے مقام محمود ہمیشہ بڑھنے والا مقام ہے اسی طرح بخشش کا مضمون بھی ایک جاری مضمون ہے۔کوئی مقام ایسا نہیں ہے جہاں آپ پہنچ کر کامل طور پر بخش دیئے جائیں اور پھر آگے ہر قسم کی گندگی سے پاک وصاف ہو جائیں۔زیادہ سے زیادہ مثال آپ یہ دے سکتے ہیں کہ ایک بچے کی طرح دوبارہ پیدا ہوں لیکن پیدا ہوں گے تو اسی دنیا میں پیدا ہوں گے۔جنت میں تو نہیں پیدا ہوں گے اسی دنیا کی کثیف ہوا میں سانس لیں گے، اسی دنیا کی آلودگیوں کے ساتھ زندہ رہیں گے تو ہر روز کی میل کچیل ، ہر روز کے گند ، آپ کو روزمرہ ان سے واسطہ ہے جس سے چھٹکارا نصیب نہیں ہوسکتا اور چھٹکارا کیسے نصیب ہو گا۔اُس کا اسی آیت کریمہ میں ذکر ہے کہ عبادت کے ذریعے، نمازیں پڑھو۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا ایسا شخص جس کے پاس شفاف پانی کی نہر بہہ رہی ہے اور وہ پانچ