خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 201
خطبات طاہر جلد ۱۲ 201 خطبه جمعه ۱۲ / مارچ ۱۹۹۳ء سے کوئی شغف نہیں بھی ہوتا وہ بھی اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، اُن کی راتیں بھی جاگ جاتی ہیں۔ایک محاورہ جو اردو میں عام ہے رات بھیگ گئی۔میں ہمیشہ رمضان کے آخری عشرے میں داخل ہوتے وقت جماعت کو یاد کروایا کرتا ہوں۔اس عام محاورے کا معنی تو یہ ہے کہ رات کا وہ حصہ آ گیا جس میں شبنم پڑنے لگتی ہے یعنی رات گہری ہوگئی اپنے دوسرے دور میں داخل ہوگئی اور شبنم کے ذریعے راتیں بھیگتی ہیں لیکن جماعت احمدیہ کو یا درکھنا چاہئے کہ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں تمام عالم میں مسلمانوں کے آنسوؤں سے یہ راتیں بھیگتی ہیں۔یہ باہر کی شبنم نہیں ہے یہ دل کے اندر سے پیدا ہونے والی شبنم ہے، یہ وہ بخارات ہیں جو آنکھوں سے آنسو بن کر برستے ہیں جو مومن کی راتوں کو بھگو دیتے ہیں۔پس اس عشرے کا حق ادا کریں اور اپنی راتوں کو بھگوئیں اور چونکہ تہجد کی دعا کا، آنحضرت ہ کی نماز کا ، حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام محمود سے گہراتعلق ہے۔اس لئے خصوصیت سے ان راتوں میں وابعثه مقاما محمودا کی دعا کیا کریں اور اس کے لئے بھی حمد کے ساتھ درود شریف کثرت سے سوچ کر اور غور وفکر کے ساتھ ادا کریں۔صلى الله صلى الله آنحضرت ﷺ جب اس عشرے میں داخل ہوا کرتے تھے تو آپ کی جو کیفیت ہوتی تھی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں۔کہتی ہیں جب آخری عشرہ آتا تو حضور یہ اپنا تہبند مضبوط باندھ لیتے یعنی کمر کس لیتے ، جس کو ہم کہتے ہیں۔راتوں کو خود بھی جاگتے گھر والوں کو بھی جگاتے۔(مسلم کتاب الاعتکاف حدیث نمبر : ۲۰۰۸) پس وہ لوگ جو عبادتیں کرنے کے عادی ہیں انہیں خصوصیت سے اس آخری عشرے میں اپنے اہل و عیال کو جگانا چاہئے۔یہ سنت نبوی ہے۔یہ حضرت اسماعیل کی بھی ، خصوصیت کے ساتھ سنت تھی کہ آخر وقت تک تھکے نہیں ہمیشہ اپنے بچوں کو نماز کی تلقین کیا کرتے اور نمازوں کے لئے جگایا کرتے۔پس آپ کو بھی آج کل خصوصیت سے اپنے سارے گھر کو بیدار کرنا چاہئے تہجد کے وقت کوئی بھی خاندان میں ایسا نہ ہو جو دعا میں شامل نہ ہو۔مجھے ے یاد ہے قادیان کے زمانے میں چھوٹے بچوں کو بھی جگا لیا جاتا تھا اور اُن سے بھی کہا جاتا تھا کہ تم کچھ نہ کچھ دعا کرو اور اس مبارک وقت کی سعادتوں میں شامل ہو جاؤ۔بعض دفعہ اُن کو تحریص کی خاطر اُن کی مرضی کی کوئی اچھی سی چیز بنا کے رکھ لی جاتی تھی۔اُس کھانے کی خاطر اٹھتے تھے اور ساتھ ہی اللہ کے فضل سے تہجد کا بھی کچھ مزا اُن کو آ جاتا تھا۔میں امید رکھتا ہوں کہ اس قادیان کی