خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 199 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 199

خطبات طاہر جلد ۱۲ 199 خطبه جمعه ۱۲ / مارچ ۱۹۹۳ء الله (الضحی : ۵) آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تیرا ہر آنے والا لمحہ ہر گزرے لمحے سے بہتر ہے تو کبھی ایک مقام پر ٹھہر نے والا وجود نہیں ہے۔تیرے وصال کے بعد بھی تیری ترقیات اسی طرح جاری وساری رہیں گی۔تجھ میں حمد کا مضمون بڑھتا رہے گا اور ہمیشہ تیری حمد کے گیت پہلے سے بڑھ کر گائے جائیں گے۔پس ایک معنی تو فی ذاتہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کے بڑھتے ہوئے مقام کا معنی ہے جو مقام محمود ہے جو ایک دفعہ وعدہ پورا ہوتے ہی اگلے لمحے پھر نیا وعدہ پورا کرنے کا تقاضا کرتا ہے اور ایک لمحے میں ایک مقام محمود نصیب ہوتا ہے تو اگلا مقام محمود آگے کھڑا اور توجہ اس کی طرف بڑھتی ہے پھر اُس سے آگے اور پھر اُس سے آگے تبھی ہمیں یہ دعا سکھائی کہ جب تم اذان کی آواز سنا کر وجس صلى الله سے تمہیں فلاح و بہبود کی طرف بلایا جاتا ہے تو یا درکھو اس فلاح و بہبود کا وسیلہ محمد رسول اللہ مجھے بنے صلى الله۔ہیں اور چونکہ حضرت محمد رسول اللہ لہ کا یہ جاری احسان ہے تم پر۔تم یہ جاری دعا کیا کرو کہ اے خدا ان کو وہ مقام محمود عطا فرما جس کی لامتناہی منازل آگے مستقبل میں سامنے کھڑی ہیں پس مقام محمود ایک جاری وساری حمد کا مضمون ہے جو بھی ختم نہیں ہوسکتا اور اس مد میں اللہ کی حمد کے ساتھ آنحضرت ہ کی حمد کا مضمون مدغم کر دیا گیا ہے۔حضور اکرم ﷺ نے جو خدا کی حمد کے گیت گائے وہی گیت آسمان سے بازگشت کے طور پر محمد کی حمد کی صورت میں نازل ہوئے اور جوں جوں خدا کی حمد دنیا میں ترقی کرتی چلی جائے گی حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی حمد کا مضمون بھی کامل سے کامل تر ہوتا چلا جائے گا۔ایک چھوٹا سا نظارہ ہم نے آج اس دور میں داخل ہوتے ہوئے بھی دیکھا ہے جس کا تعلق ڈش انٹینا کے ذریعے تمام دنیا میں خطبات اور اُس سے پہلے اذان کے پہنچنے کے سامان پیدا ہوئے ہیں اب آپ دیکھیں جو اذ ان ابھی دی گئی تھی وہ برقیاتی لہروں کی صورت میں تمام جو پر پھیل چکی ہے اور ابھی تک ارتعاش فضا میں باقی ہوگا کوئی دنیا کا گوشہ ایسا نہیں جس کی فضا میں اس اذان کی برقی لہریں مرتعش نہ ہوئی ہوں الله اور ہر جگہ تو اُس اذان کے بعد وہ دعا کرنے والے موجود نہیں تھے لیکن حضرت اقدس محمد رسول الهلال الاول نے ہمیں خبر دی ہے کہ اذان کے جواب میں فرشتے لبیک کہا کرتے ہیں چنانچہ ایک موقع پر فرمایا کہ اگر تمہارے پاس با جماعت نماز کے لئے کوئی ساتھی نہ ہو اور تم جنگل میں ہو تو اذان دو اگر کوئی شخص سنے الله