خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 196
خطبات طاہر جلد ۱۲ 196 خطبه جمعه ۱۲ / مارچ ۱۹۹۳ء محمود کیا ہے اور کیا یہ وعدہ پورا ہو یا ہونا باقی ہے؟ اور اس کی کیا نوعیت ہے، کس طرح وعدہ پورا ہوگا ؟ یہ بہت ہی تفصیلی اور گہر امضمون ہے۔اس کے متعلق پہلے میں بار ہاذ کر کر چکا ہوں لیکن یہ مضمون ابھی بھی تشنہ ہے۔مختصراً میں اس وقت صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ان آیات کریمہ میں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ تو راتوں کو اٹھ کر تہجد ادا کیا کر۔یہ تیری طرف سے نوافل ہوں گے اور قریب ہے کہ خدا تعالیٰ تجھے اُس مقام محمود پر فائز فرما دے جس کا تجھ سے وعدہ کیا گیا ہے۔مقام محمود سے مراد ہے حمد کا مقام اور حمد کا گہرا تعلق اللہ تعالیٰ کی ذات سے ہے۔پس مقام محمود ایک ایسے مقام کا نام ہے جو محمد مصطفی ﷺ کی حد کو اللہ تعالیٰ کی حمد کی صف میں اس طرح مدغم کر دے کہ ایک پہلو سے دیکھیں تو محمد مصطفی سے دکھائی دیں اور دوسرے پہلو سے دیکھیں تو خدا دکھائی دے یعنی حمد ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اس طرح یک جان ہو جائیں کہ ایک کو دوسرے سے الگ نہ کیا جا سکے۔”من تو شدم تو من شدی والا مضمون ہے کہ میں تو ہو جاؤں اور تو میں ہو جائے اور جب حمد اس درجہ ترقی کر جاتی ہے کہ حمد کرنے والا اپنے وجود کو کلیۂ کھو دیتا ہے اور اس کا وجود اپنی حمد سے خالی ہو جاتا ہے۔سبھی یہ مقام نصیب ہو سکتا ہے اُس کے بغیر ممکن نہیں ہے۔پس اس پہلو سے اگر دیکھیں تو یہ مقام تو حضرت اقدس محمد مصطفی میں اللہ کو پہلے سے نصیب ہو چکا ہے اور آپ کا نام احمد رکھا ہی اس غرض سے گیا اور سورہ فاتحہ میں اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ ) (الفاتحہ :۲) میں بھی یہ مضمون بیان ہوا جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا اَلحَمدُ دو طرح سے پڑھا جاتا ہے ایک فاعلی حالت میں اور مفعولی حالت میں۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ کا ایک مطلب یہ ہے کہ کامل حمد اللہ ہی کے لئے ہے اور کسی پر بھی نہیں۔جتنا مرضی تم زور لگا ڈ الوحمد کا مضمون خدا کے سوا کسی اور ذات پر صادق ہی نہیں آسکتا۔ایک یہ معنی بھی ہے اور دوسرا یہ کہ خدا کے سوا کوئی حمد کرنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتا۔حمد وہ جو خدا کرے ورنہ بندے کی حمد کی کیا قیمت ہے اور کیا حیثیت اور کیا حقیقت ہے؟ نہ وہ حقیقت میں عالم الغیب ہے اور نہ عالم الشہادہ ہے۔دھوکے کی دنیا میں رہتا ہے، خود کو دھو کے دے رہا ہے۔لوگوں کے دھوکوں اور فریبوں کا شکار رہتا ہے اس لئے کسی کی حمد کسی انسان کے لئے کچھ بھی معنی نہیں رکھتی۔اَلْحَمْدُ لِلهِ ہاں حمد ہو تو خدا کی حمد ہو جس کی خداحمد کرے۔