خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 16 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 16

خطبات طاہر جلد ۱۲ 16 خطبه جمعه ارجنوری ۱۹۹۳ء صلى الله نام سے مشہور ہے جو آنحضرت ﷺ اور یہودیوں اور وہاں کے بسنے والے مشرکین کے درمیان اور صلى الله عیسائیوں کے درمیان ایک معاہدہ کی شکل میں لکھا گیا۔ اس چارٹر کو اگر ساری دنیا کے Peace چارٹر کے طور پر پیش کیا جائے ۔ صرف ایک فرق کے ساتھ کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی لیڈرشپ کے الفاظ دنیا وہاں قبول نہیں کرے گی اور ویسے بھی وہ چارٹر اس حوالے سے آنحضرت ﷺ کی زندگی تک عمل رکھتا تھا لیکن اس پہلو کو چھوڑ کر وہ مدینہ کا چارٹر ساری دنیا کے لئے امن کا چارٹر بن سکتا ہے۔ بہت ہی گہرے عدل پر مبنی ہے اور اس چارٹر کے بعد کسی قوم کو کسی دوسری قوم سے خطرہ در پیش نہیں ہوگا۔ پس پاکستان ، ہندوستان، بنگلہ دیش، بر ما ان سب ملکوں میں یہ مسائل بڑے بھاری اور گہرے مسائل ہیں یعنی آپس میں مذہبی منافرتوں کے مسائل ۔ ان کو یہ اختیار کرنا چاہئے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس سے ان سب ملکوں کا بھلا ہو گا لیکن پتا نہیں کیوں یہ مذہبی جنون کی حوصلہ شکنی نہیں کر رہے جس کا مطلب یہ ہے کہ سیاستدان ذمہ دار ہے۔ سیاستدان کی خود غرضی ہے جو ساری قوم پر بلکہ ساری انسانیت پر یہ ظلم کر رہی ہے لیکن جب ملک آپس میں بیٹھیں گے تو ایک دوسرے کو تقویت دے رہے ہوں گے۔ پھر یہ اپنے اپنے ملک کے مذہبی جنونیوں سے کم ڈریں گے اور ایک بڑی سطح پر ایسے فیصلے کرنے کی زیادہ اہلیت رکھیں گے کہ مذہب میں اس بات کی اجازت ہوگی اس بات کی نہیں ہوگی ۔ مثلاً چند باتیں ہیں جو مختصر وقت میں بھی میں آپ کے سامنے رکھ سکتا ہوں۔ اول یہ کہ مذہبی آزادی کو ان سب ملکوں کو تسلیم کرنا ہوگا اور مذہبی آزادی میں تبلیغ کرنے کے حق کو بھی تسلیم کرنا ہوگا۔ اگر یہ حق تسلیم کیا جاتا ہے تو ہر پاکستانی مسلمان کو یہ حق ہو گا کہ ہر ہندو و تبلیغ کرے اور ہر ہندو کو ہندوستان میں اور پاکستان میں بھی یہ حق ہوگا کہ ایک مسلمان کو تبلیغ کرے۔ اس حق کے ساتھ جو بین الاقوامی حیثیت کا حق ہے کسی مذہب کو کسی دوسرے مذہب پر فوقیت نہیں دی جاسکتی بلکہ برابر کا حق ہے اور دراصل تبلیغ میں یہ برابری کا حق ہونا شامل ہے لیکن مولویوں کو اس بات کی عقل نہیں آتی کہ جب یہ تبلیغ کا حق صرف اپنے لئے محفوظ کراتے ہیں تو تبلیغ کہتے کس کو ہیں کسی کو پیغام پہنچائیں گے کہ نہیں پہنچائیں گے جب پہنچائیں گے تو کیا اس کو جواب کا حق نہیں دیں گے ۔ اس کو کہیں گے کہ تمہارے دل میں خواہ کتنے خدشات ہوں ، کتنے بھاری اعتراض ہوں ، منہ سے نہیں بولنا اور اگر کہیں گے کہ بولو تو پھر وہ بھی آپ کو تبلیغ کر رہا ہے تو تبلیغ تو یک طرفہ ہو ہی نہیں سکتی۔ یہ فارمولا انتہائی جاہل دماغوں کی پیداوار ہے کہ