خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 17
خطبات طاہر جلد ۱۲ 17 خطبہ جمعہ ارجنوری ۱۹۹۳ء مسلمان دوسرے کو تبلیغ کر سکتا ہے غیر مسلم مسلمان کو تبلیغ نہیں کر سکتا۔اختلاف رائے کو کھنگالنے کا نام ہی تو تبلیغ ہے اور عقل کو قائل کرنے اور دلوں کو قائل کرنے کے بعد کسی دوسرے مذہب میں داخل کرنے کا نام ہی کامیاب تبلیغ ہے۔پس ہندو کو بھی حق ہے ، سکھ کو بھی حق ہے، ہر اقلیت کو حق ہے اور اس حق کے سوا کوئی عقل کا فیصلہ ہے ہی نہیں۔اس کے متبادل کوئی اور تجویز نہیں ہے۔جب یہ تسلیم کریں گے تو اس کے ساتھ ہی پھر وہ دوسرا سوال اٹھ کھڑا ہو گا کہ جب تبلیغ کریں گے تو منافرتیں پھیلیں گی۔یہاں پہنچ کر جماعت احمد یہ قدم قدم پر ان کی بڑی عمدہ راہنمائی کر سکتی ہے۔اختلاف رائے کا اظہار کرنا ہرگز انسانی حقوق کے منافی نہیں ہے بلکہ انسانی حقوق میں داخل ہے۔کسی مذہب کے عقائد کو تسلیم نہ کرنا ہر گز دل آزاری نہیں کہلا سکتا کیونکہ یہ ایک فطری بات ہے کہ میں وہی مانوں گا جو میں سمجھتا ہوں اور جو میں سمجھتا ہوں اگر میں وہ بیان کروں تو یہ کسی کی دل آزاری نہیں ہے، یہ حقیقت ہے۔اب یہ سارے مولوی جو پاکستان میں یا باہر اسی مزاج کے بستے ہیں ان کو اچھی طرح علم ہے کہ کوئی عیسائی ایسا نہیں جو حضرت رسول اکرم ﷺ کوسیا سمجھتا ہو۔تو جب یہ بات کرتے ہیں کہ فلاں کے دل میں چونکہ یہ بات ہے اس لئے اس نے ہتک رسول کی ہے تو اس پیمانے پر اگر جانچا جائے تو پاکستان میں سارے عیسائی واجب القتل ہو جاتے ہیں اور جانتے ہیں کہ ہر ہندو بھی آنحضرت ﷺ کو نعوذ باللہ من ذلک جھوٹا سمجھتا ہے اور عیسی علیہ السلام کو بھی جھوٹا سمجھتا ہے ورنہ وہ ہندور ہے ہی نا تو اگر مولوی کے پیش کردہ نسخہ کو قبول کیا جائے تو ہر ہندو پاکستان میں بھی واجب القتل ہو جائے گا اور عیسائی ملکوں میں بھی واجب القتل ہو جائے گا۔یہ سب جہالت کی باتیں ہیں، عقائد کے اختلاف کو جب آپ قانونی طور پر تسلیم کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی مذہبی راہنما کو انسان عقیدۂ سانہ سمجھے تو یہ اس کی ہتک نہیں ہے اور کسی کے لئے دل آزاری کا اس میں کوئی سوال نہیں۔اس کے لئے تبلیغ کی اجازت ہے۔سمجھاؤ کہ وہ سچا ہے یہی اس کا علاج ہے اگر کسی سربراہ کے متعلق وہ ایسی بات کرتا ہے جو اپنے اظہار میں ناپسند یدہ اور مکر وہ ہے جس میں گالی سے کام لیا گیا ہے، گستاخی سے کام لیا گیا ہے، مخالفت کی گئی ہے اور مخالفت عقیدے کی نہیں بلکہ گندا چھال کر اپنے بغض کو ظاہر کیا گیا ہے تو ایسا شخص لائق تعزیر ہے۔قانون اگر بنایا جا سکتا ہے تو اس حد تک بنایا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی شخص بغیر ضرورت کے اپنے کسی مخالف کے