خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 191 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 191

خطبات طاہر جلد ۱۲ 191 خطبه جمعه ۵ / مارچ ۱۹۹۳ء ہیں غیر اسلامی ملکوں میں کہ نو جوانی کی عمر میں روزہ رکھنا مضر ہے، بالکل جھوٹ ہے۔نو جوانی کی عمر میں فرض نہیں ہے، یہ درست ہے لیکن جور رکھتے ہیں ان کو نقصان کوئی نہیں ہوتا۔ہم نے اپنے قادیان کے ماحول میں یہی دیکھا کہ چھوٹے بچے بھی جو ۸، ۹ سال کی عمر کو پہنچ جاتے ہیں جو شوق سے روزہ رکھنا چاہتے ہیں اُن کو کبھی روکا نہیں گیا تھا۔کبھی کسی نے یہ نہیں کہا کہ تمہاری صحت کمزور ہو جائے گی تم رک جاؤ۔ہاں اگر کوئی زیادہ ہی جوش دکھائے اور کہے کہ میں نے سارے مہینے کے رکھنے ہیں تو اُسے پیار سے سمجھایا جاتا تھا کہ نہ کرو۔اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ بعض دفعہ کچی عمر میں زیادہ نیکی کرنے سے نیکی سے ہی متنفر ہو جاتا ہے۔وہاں بھی صحت کی خرابی کا خطرہ نہیں تھا۔غالباً وجہ یہ ہوتی تھی کہ بچہ کہیں زیادہ جوش میں نیکی کر کے، نیکیوں سے نہ جائے کہیں اور نیکیوں کے خلاف ایک قسم کی بے رغبتی نہ پیدا ہو جائے۔بہر حال ہم نے بچپن میں رکھے ہوئے ہیں۔۷، ۸ سال کی عمر سے شروع میں دو تین پھر ۷، ۸ بلوغت سے پہلے پندرہ میں تک پہنچ جایا کرتے تھے اور بلوغت کے بعد خدا تعالیٰ کے فضل سے جہاں تک مجھے یاد ہے روزے رکھنے کی توفیق ملی سختیوں میں بھی ، نرمیوں میں بھی ، چھوٹے دنوں میں بھی ، زیادہ دنوں میں بھی لیکن کوئی ایسا نقصان مجھے یاد نہیں جس نے ہمیشہ کے لئے صحت پر برا اثر چھوڑا ہو۔شاید ربوہ کے ابتدائی سالوں میں جب ربوہ بنا تھا جو گرمیاں وہاں پڑی تھیں اُن کے نتیجے میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ کچھ نقصان ہوتا تھا۔مگر وہ اس طرح کہ شدید گرمی تھی اور 124 درجے تک ٹمپر پر صبح شام ٹھہر ہی جایا کرتا تھا اور بجلی نہیں تھی کوئی پنکھا نہیں تھا تو نقصان جو پہنچتا تھا وہ اس طرح پہنچتا تھا کہ بعض لوگ چادر میں بھگو کر اُن میں لپٹ کر وقت گزارتے تھے اور اُس سے اعصاب پر بُرا اثر پڑتا تھا۔پس وہ براہ راست گرمی کی سختی کے نتیجے میں نہیں بلکہ گرمی کے غلط علاج کے نتیجے میں ہوتا تھا۔میں اس لئے وضاحت کر رہا ہوں کہ بعض لوگ جنہوں نے وہ تجربے کئے ہوئے ہیں کہ شاید کہہ دیں کر نہیں فلاں وقت تو ہمیں نقصان پہنچاتھا۔پہنچا تھا مگر اپنی غلطی کی وجہ سے۔عام طریق پر جو روزہ رکھا جائے اُس سے سختی برداشت کی جائے۔دائی نقصان نہیں ہوا کرتا۔سوائے اس کے کہ بیمار رکھ لے۔ایک چیز اور بڑی دلچسپ اس حدیث میں بیان ہوئی ہے۔وہ ہے روزے تو آدھا صبر ہیں۔میں نے اس پر بڑا غور کیا کہ اللہ میاں یہ آدھا صبر کیا مطلب؟ پورا صبر کیوں نہیں؟