خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 192
خطبات طاہر جلد ۱۲ 192 خطبه جمعه ۵ / مارچ ۱۹۹۳ء آنحضرت کہ جب ایک بات بیان فرماتے ہیں تو لازماً گہری حکمت پر مبنی ہوتی ہے۔اُس نعمت کی کچھ حکمت ہمیں عطا فرما دے، سمجھا دے کہ کیا قصہ ہے۔تو دوباتیں مجھے سمجھ میں آئیں۔ایک یہ کہ رمضان گرمیوں کے ہوں یا سردیوں کے ہوں، کہیں روزے چھوٹے ہوتے ہیں، کہیں بڑے ہوتے ہیں لیکن پورا دور جو سردیوں اور گرمیوں کا گزرتا ہے اس کی اوسط نصف گرمی بنتی ہے۔شمالی قطب کے قریب جائیں بعض دفعہ تو روزے چھوٹے ہونے شروع ہو جاتے ہیں لیکن اگر وہیں سال گزارا جائے تو آگے بڑے روزے بھی وہیں آجائیں گے اور دنیا میں کوئی بھی خطہ ایسا نہیں جہاں کہ روزے رکھنے والوں کی آخری اوسط نصف نصف نہ بن جائے۔پس روزے کبھی چھوٹے کبھی بڑے لیکن اوسطاً نصف روزہ ہی بنتا ہے یعنی چوبیس گھنٹے کا نصف روزے میں کتنا ہے تو اس لحاظ سے اسے نصف صبر کہنا بہت ہی عمدہ مینی بر حکمت بات ہے۔لیکن ایک اور معنی بھی مجھے اس کے سمجھ آئے کہ صبر دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک اُن بلاؤں پر صبر جن پر انسان کا اختیار نہیں جیسا کہ آفات سماوی ہیں، جیسا کہ کسی ظالم کے ظلم ہیں ، کوئی مالی نقصان پہنچا دیتا ہے، کوئی لٹیرا لوٹ کر لے جاتا ہے، کوئی جسمانی اذیتیں پہنچاتا ہے، جیسا کہ آج کل بوسنیا میں ہو رہا ہے اور بہت سے دیگر مسلمان ممالک میں یہ دکھائی دیتا ہے۔کئی قسم کے ظلم ہیں جو ایک انسان دوسرے پر تو ڑتا ہے یا جنہیں آفات سماوی کہتے ہیں ، حوادث زمانہ اُن کے نتیجہ میں انسان برداشت کرتا ہے اور اُن پر اگر کوئی صبر کرے تو وہ بیرونی مصائب پر صبر کرنا کہلائے گا۔جن پر انسان کا اختیار ہی کوئی نہیں۔صبر کی ایک قسم ہے جو اندرونی مصائب سے تعلق رکھتی ہے جس پہ بندے کا اختیار ہے۔مثلاً پانی ملتا ہو اور نہ پئے۔بھوک لگی ہو اور روٹی نہ کھائے جول رہی ہو، دل چاہتا ہو کسی سے پیار کرنے کو اور خدا کا حکم رستے میں حائل ہو۔ہر گز نہیں۔نظر آوارہ ہونے کی تمنا پیدا ہو اور خدا کا حکم روک دے کہ خبردار، زبان چاہے کہ بے لگام ہو۔اللہ کا حکم کہے کہ ہرگز نہیں تو ہر جگہ پہرے بٹھا دیئے جائیں یہ صبر ہے اور یہ صبر طوعی صبر ہے جو انسان کی اپنی ذات سے تعلق رکھتا ہے۔اس صبر کی جتنی تکلیفیں انسان خود اپنے اوپر عائد کرتا ہے۔عقل کے ساتھ فیصلہ کرتے ہوئے یا دل کے ساتھ فیصلہ کرتے ہوئے یا جو بھی بات ہو۔تو یہ نصف صبر ہے۔تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ رمضان نصف مبر ہے۔