خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 190
خطبات طاہر جلد ۱۲ 190 خطبه جمعه ۵/ مارچ ۱۹۹۳ء صل الله سنن ابی ماجہ سے یہ حدیث لی گئی ہے۔اس میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہر چیز کی زکوۃ ہوتی ہے اور جسم کی زکوۃ روزہ ہے۔روزے تو آدھا صبر ہیں۔( ابن ماجہ کتاب الصیام باب فی زکوۃ الجسد ) اس حدیث کا یہاں تک پہلے نصف سے تعلق ہے۔یہ بات تو ہر انسان عام طور پر سمجھ لیتا ہے، سمجھنا آسان ہے کہ جسم کی زکوۃ روزے میں نکلتی ہے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا انسانی جسم کو جتنی صلاحیتیں خدا نے عطا فرمائی ہیں۔اُن سب میں سے وہ کچھ خدا کی خاطر مشقت برداشت کرتا ہے اور اُن سب پر اُس مشقت کا اثر پڑتا ہے۔کوئی بھی حواس خمسہ میں سے ایسے نہیں ہیں جن کو خدا کی راہ میں قربانی نہ پیش کرنی ہو۔پس یہ گو یا جسم کی زکوۃ نکل رہی ہے اور زکوۃ نکلنے کا جو مفہوم ہے اُس کو سمجھنا چاہئے زکوۃ کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے۔زکوۃ کم کرنے کے لئے نہیں ہے بلکہ بڑھانے کے لئے ہے اور اُن لوگوں پر ناراضگی کا اظہار فرمایا ہے جو یہ کہتے ہیں زکوۃ سے مال کم ہوتے ہیں۔سود سے بڑھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ سود سے کم ہوتے ہیں اور زکوۃ سے بڑھتے ہیں۔یہ وہ مضمون ہے جس کی طرف اشارہ ہے۔پس وہ انسان جو یہ چاہتا ہے کہ اُس کا جسم پہلے سے زیادہ صحت مند ہو جائے جب وہ خدا کی خاطر اپنے جسم کی ہر طاقت کی قربانی پیش کرتا ہے تو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا وعدہ ہے کہ وہ زکوۃ شمار ہوگی اور زکوۃ کے نتیجے میں اُسی قسم کی چیزوں میں برکت پڑنے کا وعدہ قرآن کریم میں موجود ہے۔پس وہ جاہل جو یہ کہتے ہیں روزے کے نتیجے میں مسلمانوں کی صحتیں کمزور ہو جاتی ہیں۔یہ بیوقوفی ہے اُن کی لاعلمی ہے۔وہ سودخوری نظام کے عادی یہی سمجھتے ہیں کہ زکوۃ کے پیسے سے بھی کمزوری آتی ہے مال میں اور زکوۃ کے جسمانی خرچ سے بھی جسم میں کمزوری آتی ہے اور قرآن کریم فرماتا ہے کہ اس کے برعکس صورتحال ہے جہاں تک انسانی تجربہ ہے۔میں اپنے تجربہ سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر ہر مہینے رمضان کے روزے فرض نہ ہوتے تو پتا نہیں اب تک ہم زندہ بھی ہوتے کہ نہ صحت کا کیا حال ہونا تھا؟ کن کن مصیبتوں میں مبتلا ہوتے ؟ رمضان تو تمام کھوئی ہوئی طاقتوں کو بحال کر جاتا ہے۔جسم کو ایک نئی جان بخش دیتا ہے۔وہ کمزوریاں جو انسان نے اپنی غفلت سے خود اپنے اوپر عائد کر رکھی ہیں۔وہ بیماریاں جن میں انسان اپنی غلطیوں کی وجہ سے ملوث ہو جاتا ہے اور اُن کا شکار ہو جاتا ہے۔رمضان میں دھلنی شروع ہو جاتی ہیں اللہ کے فضل کے ساتھ۔پس جو عورتیں سمجھتی ہیں کہ ہمارے بچوں کی صحت کمزور ہو جائے گی روزے نہ رکھوائے جائیں جو لوگ کہتے -