خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 187
خطبات طاہر جلد ۱۲ 187 خطبه جمعه ۱۵ مارچ ۱۹۹۳ء ہوئیں سونگھتے ہو تو یا درکھو چونکہ یہ خدا کی خاطر ہے اس لئے اللہ کے نزدیک یہ بو مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ بہتر ہے۔ روزے میں یاد رکھیں انسان کو جتنی بھی خدا تعالیٰ نے طاقتیں ودیعت فرمائی ہیں، صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں اُن سب کی قربانی شامل ہوتی ہے قوت شامہ سمیت ۔ صلى الله پھر اس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب روزہ رکھو تو بیہودہ گوئی سے پر ہیز کرو اور شور و شر سے پر ہیز کرو۔ بعض لوگوں کو بیہودہ گوئی کی عادت ہوتی ہے، یا وہ گوئی جس کو کہتے ہیں اور عام بات کرتے ہوئے بھی کچھ نہ کچھ بیہودہ کلام کر دیتے ہیں ، بعضوں کو گالیاں دینے کی عادت ہے۔ ہمارے ملک میں تو اتنی عادت ہے کہ زمیندار ہل چلاتے وقت اپنے جانور کو بچارے کو خواہ مخواہ ہی گالیاں دیتا رہتا ہے۔ وہ بیل بیچارہ محنت کر رہا ہے، اُس کی سوٹیاں کھاتا ہے، گندی گالیاں بھی ، ایسا لغو طریقہ ہے۔ یہ شاید ہی دنیا کی کسی قوم میں رواج ہو۔ ہماری قوم میں تو خوب پایا جاتا ہے یعنی پاکستان میں اور ہندوستان میں اور شاید بنگلہ دیش میں بھی پایا جاتا ہو۔ میں بھی پایا جاتا ہو۔ آنحضرت ﷺ نے جب فرمایا کہ روزے کے وقت خصوصیت سے توجہ کرو تمہاری زبان پاک وصاف رہنی چاہئے ۔ تو مراد یہ نہیں ہے کہ روزہ ختم ہوا اور گالیاں شروع ہو جائیں ۔ مراد یہ ہے کہ یہ بھی ایک ورزش کا زمانہ ہے۔ اس پہلو سے بھی ورزشیں کرو کہ خدا تمہیں پاک وصاف زبان عطا کرے۔ روزے میں جب تم محنت کرو گے اپنے آپ کو روک کے رکھو گے تو انشاء اللہ بعد کی زبان بھی پاک وصاف رہے گی۔ الله شور و شر نہ کیا کرو بے وجہ اور اگر کوئی تمہیں کوئی گالی دے تو اُس کے جواب میں کہا کرو کہ وشر وجہ اور میں روزہ دار ہوں۔ یہ جو خصوصیت سے نصیحت ہے اس لئے بھی ہے کہ بھوک کے نتیجے میں انسان کے لئے غصہ برداشت کرنا زیادہ مشکل ہو جایا کرتا ہے اور عام لوگ جو بغیر بھوک کے زبان صحیح رکھتے ہیں ۔ وہ بھوک کے وقت بعض دفعہ جلد ہی وہ بے قابو ہو جاتے ہیں اور کسی ناپسندیدہ بات کو برداشت نہیں کر سکتے تو یہ میرا بھی ذاتی تجربہ ہے کہ روکنا پڑتا ہے اپنے آپ کو۔ پس آنحضرت ﷺ کی ہر نصیحت گہری انسانی نفسیات کے مطالعہ پر مبنی ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو الہام کا نور نازل ہوا۔ اُس نے آپ کی اس فطری روشنی کو اور بھی زیادہ روشن تر کر دیا۔ نُورٌ عَلَى نُورٍ (النور: ۳۶) کا نظارہ ملتا ہے آپ کی نصیحتوں میں ۔ پس انسانی فطرت کے گہرے راز آپ پر روشن تھے۔ اُن کو پیش نظر رکھتے ہوئے آپ نے نصیحتیں فرمائی ہیں۔ اس لئے صرف وہ