خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 186
خطبات طاہر جلد ۱۲ 186 خطبه جمعه ۵/ مارچ ۱۹۹۳ء صلى الله نظارے دیکھیں ، قرب الہی کی لذت محسوس کریں اور کسی نہ کسی رنگ میں لقا سے لذت یاب ہوں۔یہ ضروری نہیں ہے کہ خدا ایک ہی طرح ہر ایک کو دکھائی دے۔نبیوں سے بھی خدا کا مختلف معاملہ ہے۔جس شان کا جلوہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے دل کے عرش پر اترا ہے ویسا جلوہ تو کسی نے بھی نہیں دیکھا تھا مگر ہر نبی نے دیکھا تھا، کچھ نہ کچھ تو دیکھا تھا۔بغیر لقا کے نبوت ہو ہی نہیں سکتی۔پس یہ ضروری نہیں کہ لقا ایک ہی طرح کی ہو مگر کچھ نہ کچھ لقا ضروری ہے اور یہ نشان ہو گا اس بات کا عملی ثبوت ہو گا کہ ہمارا رمضان مقبول ہوا اور اگر ہمیں لقائے باری نصیب نہ ہو تو پھر وہی بات اطلاق پائے گی کہ نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے دوسری بات اس حدیث نبوی میں جو فرمائی گئی ہے خاص طور پر قابل غور۔آپ فرماتے ہیں کہ روزہ دار کے منہ کی بوخدا تعالیٰ کے نزدیک ایسی ہی ہے جیسے کستوری کی خوشبو ہو۔اس بات نے میری ایک اور ذہنی الجھن کا حل کر دیا۔میں سوچا کرتا تھا کہ انسان روزے کے وقت اپنے حواس خمسہ میں سے ہر چیز کی قربانی پیش کرتا ہے سوائے ناک کے۔ناک سے سانس لیتا ہے،خوشبوئیں سونگھتا ہے اُس سے کوئی پر ہیز نہیں۔باقی سب حواس خمسہ کی قربانیاں ہیں یہ کیا وجہ ہے؟ روزہ تو یہ مفہوم پیش کرتا ہے کہ سب کچھ جسم کا جو کچھ خدا نے عطا کیا ہے سب خدا کی راہ میں کچھ نہ کچھ خرچ ہورہا ہو۔اس حدیث نے یہ مسئلہ حل کر دیا، بد بو سونگھتا ہے اپنی۔ایک نفیس طبیعت کے لئے ایک بہت بڑا عذاب ہے۔اپنی بھی سونگھتا ہے اور اپنے بھائیوں کی بو بھی سونگھتا ہے۔رمضان مبارک میں جو قریب سے بعض دفعہ بے احتیاط لوگ آ کے ایک دم بات کرتے ہیں تو منہ سے ایک دم بھبکہ اٹھتا ہے جو روزے کے نتیجے میں بو پیدا ہو جاتی ہے۔ایک معدے کی کچھ خرابی ہوتی ہے جن لوگوں کو فاقوں کی عادت نہ ہو۔اُن کے معدے میں گیسیں پیدا ہوتی ہیں اور وہ خون میں ملتی ہیں۔پھر خون کے ذریعے جب Lungs میں سے خون گزرتا ہے یعنی پھیپھڑوں میں سے تو سانسوں میں بو آ جاتی ہے اور کچھ منہ کے اندرو یسے بند رہنے سے بو آ جاتی ہے۔آنحضرت ﷺ نے یہ مسئلہ حل فرما دیا کہ تمہاری قوت شامہ بھی اس قربانی میں شامل ہے اور جب تم روزے کے نتیجے میں اپنی بو کی تنگی محسوس کرتے ہو یا دوسروں کی