خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 185 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 185

خطبات طاہر جلد ۱۲ 185 خطبه جمعه ۵/ مارچ ۱۹۹۳ء عبادت کرنے والے ہیں۔ان کی بیس سال کی بن جائے گی۔بیس سال کے بعد اُس کی نیکی ختم اُس کی جزا ختم۔پر اللہ تعالیٰ اُسی نیکی کو اس طرح آگے بڑھا دیتا ہے کہ گویا وہ ہمیشہ کے لئے جاری ہوگئی اور جو جزاء اس ہمیشگی کے نتیجے میں ملنی چاہئے وہ عطا ہوتی ہے۔پس نمازوں کی جزاء بھی اس طرح ملتی ہے اور دوسری نیکی کی جزاء بھی اس طرح ملتی ہے لیکن کسی نیکی کے نتیجے میں چونکہ موت مقدر نہیں ہوتی اگر اُسے بڑھالیا جائے اس لئے وہ جزاء نہیں ملتی اُسے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اللہ خود اس کی جزاء ہے۔یہ نی کی اگر تم زیادہ کرو گے تو میں آگے کھڑا ہوں گا تو فرمایا تم نے میری خاطر گویا موت قبول کر لی ہے۔اگر روزہ بڑھ جائے اور لمبا ہو جائے تو لا ز ما تم مر جاؤ گے، ایک مرن برت بن جائے گا اور مجھ سے ملنے کی خاطر جان دے رہے ہو گے گویا کہ میں تمہارا قربانی کا وقت چھوٹا کر دیتا ہوں لیکن تمہاری قربانی کی روح قبول کر لیتا ہوں کیونکہ روزے کے فاقوں کے نتیجے میں کیونکہ تم نے لازماً مجھ تک ہی پہنچنا تھا اس لئے میں نیکی کی مشقت کو کاٹ دیتا ہوں اور جزاء بن کر خود آ جاتا ہوں کہ اچھا ملاقات کرتے ہیں اور یہ ملاقات جو ہے آخرت کے لئے مقدر نہیں ہے ، اس دنیا میں ہونی چاہئے۔یہ مضمون ہے جو میں آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں کیونکہ آخرت کی ملاقات تو ہر مرنے والے کی ہونی ہی ہونی ہے۔روزے کی جزا خدا خود تب بنتا ہے کہ وہ خود آ کر کھڑا ہو اور خود ملاقات کے لئے جلوےانسان پر ظاہر فرمائے۔یہی وہ مضمون ہے جس کا اُس آیت کریمہ میں ذکر ملتا ہے جو میں نے آپ کے سامنے پہلے تلاوت کی تھی۔وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّى فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوالى (البقره: ۱۸۷) رمضان کے روزے رکھو گے تو میرا وعدہ ہے کہ میں لقاء کے لئے آ جاؤں گا۔تم اپنی کوشش سے جو بات حاصل نہیں کر سکتے میں اپنے فضل۔تمہیں عطا کر دوں گا اور رمضان کا آخری مقصد لقاء باری تعالیٰ ہے یعنی خدا کی راہ میں اُس سے ملنے کی خاطر جان گنوا بیٹھنا۔بعینہ اسی آیت کے مضمون کے مطابق آنحضرت ﷺ ہمیں خبر دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کی جزاء میں خود بنوں گا کیونکہ اگر یہ نیکی لمبی ہو تو انسان نے مرنا ہی مرنا ہے پھر۔جو میری خاطر جان دینے پر تیار ہو جائے۔میں کیوں اُس سے ملاقات نہ کروں۔پس ہمارے روزوں کی قبولیت کا نشان یہ ہے کہ رمضان مبارک کے اختتام سے پہلے پہلے ہم اللہ کے جلووں کے