خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 175 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 175

خطبات طاہر جلد ۱۲ 175 خطبه جمعه ۲۶ فروری ۱۹۹۳ء نہیں نظر آیا۔یہ آیت بتاتی ہے کہ خدا جزا ہے رمضان کی اور یہ وہ نیکی ہے جس کے نتیجے میں خود اللہ تعالیٰ جزا بن جایا کرتا ہے فرمایا فَانِي قَرِيب “ وہ مجھے اپنے قریب دیکھیں گے۔پس وہ لوگ جو رمضان میں سے گزر جاتے ہیں اور نیکیاں اختیار کرتے ہیں مگر خدا کو قریب نہیں پاتے ان کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ان کو اپنے متعلق غم لگا لینا چاہئے ، فکر لگا کے بیٹھ رہنا چاہئے کہ ہم نے کیا کیا۔سارا مہینہ سختیاں جھیلیں اور ٹیسر پھر بھی نہ آیا۔ہم خدا کے قریب ہونے کی کوشش کرتے رہے مگر خدا آج بھی ہم سے دور ہے اور وہ فاصلے پائے نہیں گئے۔پس رمضان کی صداقت کا اعلان ہے اور اس کی پہچان ہے۔اگر رمضان سچا گزرا ہے تو اس طرح پھر رمضان اپنی جزا دیا کرتا ہے اور اگر رمضان سچا گزرا ہے تو اس کی جزا ضرور خدا ہوگا اور تم خدا کو اپنے پاس دیکھو گے۔فَلْيَسْتَجِيبُوا پھر وہ زیادہ اس بات کے اہل ہوں گے کہ خدا کی آواز پر لبیک کہہ سکیں کیونکہ جب ایک دفعہ پھل چکھا دیا جائے تو دوبارہ محنت کرنے کی صلاحیت پہلے سے بڑھ جایا کرتی ہے۔جو مقصد تھاوہ حاصل ہوا، نظر آیا کہ اب خدا قریب آ گیا ہے فَلْيَسْتَجِيبُوا کا ایک یہ بھی مطلب ہے۔جب وہ مجھے قریب دیکھیں گے تو پھر میری باتیں زیادہ غور سے سنیں گے۔پس یہ ایسا مضمون ہے جو دونوں طرح عمل دکھلا رہا ہے۔بہت ہی خوبصورت مضمون ہے فَلْيَسْتَجِيبُوا ایک شرط ہے کہ میں قریب ہوں گا۔میں دعا کا جواب دوں گا شرط یہ ہے کہ تم بھی تو میری باتوں کا جواب دیا کرو اور ایک مضمون یہ ہے کہ جب میں قریب آ جاؤں گا۔رمضان کی محنتوں کے نتیجے میں فَلْيَسْتَجِيبُوالی اب تو ان پر فرض ہو جائے گا کہ ضرور میری باتوں کو دھیان سے سنیں اور ان کا مثبت جواب دیا کریں۔پہلے اگر غفلتیں ہوتی تھیں تو اب اس غفلت کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ اور مجھ پر ایمان لائیں۔اب بظاہر ایمان پہلے ہوتا ہے یہ پھر کس ایمان کا ذکر ہے۔قرآن کریم میں ایک اور جگہ بھی ایمان کے بعد پھر ایمان کا ذکر ہے۔جیسا کہ فرمایا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَّآمَنُوا وَعَمِلُوا الصلحت (المائده:۹۴) جب وہ تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور ایمان لاتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں ثُمَّ اتَّقَوْا وَامَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا قَ اَحْسَنُوا۔پھر وہ تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور پھر ایمان لاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایمان اور ایمان میں بھی فرق ہے۔ایک ایمان ہے دور کے خدا پر۔اس خدا پر ایمان نہ ہو تو کوئی پاگل تو نہیں جو