خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 169
خطبات طاہر جلد ۱۲ 169 خطبه جمعه ۲۶ فروری ۱۹۹۳ء انسان کے لئے کوئی عذر باقی نہیں چھوڑتا کیونکہ روزے کی حکمتیں ، اس کے فوائد خوب کھول کر بیان فرما دیئے گئے ہیں۔فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ بس جس کو بھی توفیق ملے کہ وہ رمضان کا - پس مہینہ دیکھے اسے چاہئے کہ اس میں روزے رکھے۔فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ پس جو بھی کوئی مریض ہو اور سفر کی حالت میں ہوا سے بعد میں یہ روزے پورے کرنے ہوں گے۔یہ تکرار کیوں ہے؟ کیا بعینہ وہی مضمون دوبارہ بیان ہو گیا ہے یا فرق ہے۔اس میں دو باتیں ایسی ہیں جو پہلے سے فرق رکھتی ہیں۔ایک میں ابھی بعد میں بیان کروں گا ایک یہ ہے کہ اتنے فائدے سننے کے بعد اب نفس یہ بہانے نہیں بنائے گا کہ میں تو مریض ہوں اس لئے یہ چھوڑ دوں، میں مسافر ہوں اس لئے چھوڑ دوں بلکہ یہ بہانے بنائے گا کہ مریض ہوتے ہوئے بھی پھر میں روزہ رکھوں۔سفر میں ہونے کے باوجود بھی میں روزہ رکھوں اور خدا تعالیٰ نے اس بات کو توڑنے کے لئے اس مضمون کی تکرار فرمائی ہے کہ دیکھو تمہیں اب رمضان کے فوائد تو خوب سمجھ میں آگئے ہیں اب رمضان کی حرص کے نتیجے میں یہ نہ سمجھنا کہ مریض ہوتے ہوئے بھی روزہ رکھو گے تو یہ ثواب کا موجب ہے یا سفر کی حالت میں بھی روزہ رکھو گے تو ثواب کا موجب ہے۔اللہ نے رخصت عطا فرمائی اس لئے رخصت سے فائدہ اٹھانا بھی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا ایک حصہ ہے، ایک اظہار ہے تو اصل ثواب اطاعت میں ہے نہ کہ ظاہری مشقت میں۔ظاہری مشقت ہرگز مراد نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا مراد ہے تو ہم نے جب تمہیں رمضان کے فائدے بتا دیئے تو تم میں سے بعض خوب جوش دکھا ئیں گے اور کہیں گے اچھا جی ! اب ہم نے نہ سفر میں چھوڑنا ہے نہ مرض میں چھوڑنا ہے۔جان جائے تو جائے روزہ نہیں چھوڑنا اور ایسے لوگ ہوتے ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بعض سفر سے آنے والوں کا روزہ ایسی حالت میں تڑوایا جبکہ ابھی نصف گھنٹہ صرف سورج ڈوبنے میں باقی تھا۔ان کو یہ تعلیم دینے کی خاطر کہ اپنے اوپر سختی اختیار کرنے میں کوئی رضا نہیں ہے۔جہاں خدا چاہے کہ اپنے او پرختی اختیار کرو وہاں اپنے او پرسختی اختیار کرنا نیکی بن جاتا ہے جہاں فرمائے کہ سختی نہ اختیار کرو وہاں سختی نہ اختیار کرنا نیکی بن جاتا ہے۔نیکی صرف اپنے محبوب کی رضا کا نام ہے۔اس مضمون کی خاطر اس کو دوہرایا گیا ہے اور ایک اور پہلو سے اس مضمون پر روشنی