خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 168 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 168

خطبات طاہر جلد ۱۲ 168 خطبه جمعه ۲۶ فروری ۱۹۹۳ء بنی نوع انسان کے لئے ہدایت ہے وَبَنْتِ مِنَ الھدی اور ہدایت میں سے ایسی خصوصیت کے ساتھ ، ایسی ہدایت کی باتیں جو غیر معمولی شان کے ساتھ کھل کر دنیا کے سامنے ابھرتی ہیں یعنی ایسی ہدایت جو تمام دنیا میں روشنی پیدا کر دیتی ہے، ان کے سارے شک دور کر دیتی ہے، ان کے سارے تو ہمات کے اندھیرے زائل کر دیتی ہے۔بَنتِ مِنَ الھدی سے مراد وہ ہدایت ہے جو انسان کا دماغ اور اس کا دل روشن کر دے۔پھر فرمایا وَ الْفُرْقَان اور ایسی ہدایت جو فرق کر کے دکھلا دیتی ہے جو خدا کا ہے وہ خدا کا ہوا ہوا دکھائی دیتا ہے۔خدا کا بندہ بن کر غیر اللہ سے الگ ہو جاتا ہے اور جو غیر اللہ کا ہے وہ الگ ہو جاتا ہے اور پہچانا جاتا ہے کہ یہ کون ہے۔پس رمضان کے مہینے میں قرآن کریم اپنی یہ تینوں شانیں دکھاتا ہے۔عام انسانوں کے لئے درجہ بدرجہ ہدایت بخشتا ہے، ہدایت کے سامان فرماتا ہے اور زیادہ ترقی کرنے والوں کے لئے ہدایت میں سے بینات ان کو عطا کرتا ہے اور بینات کے نتیجے میں فرقان پیدا ہوتی ہے۔جب روشنی ہو تو فرق ہوا کرتے ہیں۔کالے گورے کی تمیز اندھیرے میں تو نہیں ہوا کرتی۔روشنی ہو تو ہوا کرتی ہے۔تو فرمایا کہ ایسے لوگوں کو فرقان نصیب ہوتی ہے وہ گویا کہ خود فرقان بن جاتے ہیں قرآن کی برکت سے تو قرآن کی یہ تین صفات ہیں جو رمضان کے مہینے میں خدا کے بندوں میں پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہیں یا قرآن کریم کی یہ تین صفات ہیں جن سے خدا کے بندے رمضان میں بطور خاص استفادہ کرتے ہیں۔فرمایا فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْۂ اس سے پہلے بھی حکم گزر چکا ہے لیکن وہ حکم عمومی تھا۔ہم نے پہلوں پر بھی فرض کیا تھا ان کے فائدے کے لئے تھا۔تم جانتے ہو کہ کوئی تعلیم عالمی تعلیم نہیں ہو سکتی جب تک اس کے اندر غیر معمولی اہمیت نہ پائی جائے۔پس خدا نے جب تمام دنیا میں ہر شریعت میں رمضان رکھا روزے رکھے تو اس میں ضرور حکمت کی بات ہے کوئی فائدے کی بات ہے۔پس بغیر کسی تردد، بغیر کسی مزید سوال کے تم بھی اس مہینے سے فائدے اٹھاؤ یہ مضمون تھا۔اب ان فوائد کوکھول دیا گیا اور خوب روشن کر دیا گیا کہ وہ کتنے عظیم الشان، کیا کیا فوائد ہیں۔اب جو تکرار ہے یہ پہلے حکم کے مقابل پر زیادہ قوت رکھتی ہے اور انسان پر حجت تمام کرتی ہے۔اس مضمون کو پڑھنے کے بعد پھر جب حکم آتا ہے کہ اچھا! روزے رکھو تو کسی انسان کے لئے کوئی عذر باقی نہیں چھوڑتا۔یہ حکم کسی