خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 167 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 167

خطبات طاہر جلد ۱۲ 167 خطبه جمعه ۲۶ فروری ۱۹۹۳ء دو طرح سے جواب ہیں۔اول یہ کہ رمضان کے مہینے میں آغاز ہوا ہے نزول قرآن کا۔دوسرا یہ ہے کہ جب قرآن کریم نازل ہوا اور ہوتا رہا تو ہر رمضان پر حضرت جبرائیل حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا کرتے تھے اور جتنا قرآن نازل ہو چکا ہوتا تھا اس کی دوہرائی کراتے تھے رمضان میں۔یہاں تک کہ جب قرآن کا نزول مکمل ہو گیا، تو پھر جو رمضان آیا ہے اس میں پورا مکمل قرآن دو دفعہ دوہرایا گیا ہے ( بخاری کتاب فضائل القران حدیث نمبر ۴۶۱۴) تو أُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْآنُ لفظا لفظاً بھی پورا ہوا ہے اور معنا بھی کہ رمضان کے مہینے میں قرآن کا آغاز ہوا اور پھر ہر رمضان میں اس وقت تک جتنا قرآن نازل ہوا تھا سب دوہرایا جاتا رہا ہے۔دوسرا ایک معنی یہ بیان کیا جاتا ہے کہ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْآنُ رمضان کے مہینے کا ایسا تقدس ہے اور اتنا عظیم الشان مہینہ ہے کہ گویا قرآن رمضان ہی کے بارے میں اتارا گیا ہے اور جو کچھ قرآن کے مضامین ہیں وہ رمضان پر صادق آجاتے ہیں۔پس رمضان میں جو نیکیاں انسان اختیار کرتا ہے ان پر غور کر کے آپ دیکھیں کہ تمام انسانی صلاحیتوں سے تعلق رکھنے والی تمام نیکیاں رمضان کے مہینے میں اکٹھی ہو جاتی ہیں اور ایسا کوئی اور مہینہ انسان پر نہیں آتا جس میں رمضان کی طرح نیکیوں کا اجتماع ہو اور بدیوں سے رکنے پر اتنا زیادہ زور دیا گیا ہو۔پس یہ مضمون بھی بعینہ صادق آتا ہے کہ قرآن رمضان کے متعلق اتارا گیا ہے۔اگر تم غور کرو گے تو رمضان کے مہینے میں قرآن کریم کے تمام مضامین صادق آتے دیکھو گے۔پس اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْآنُ کا یہ دوسرا معنی اگر پیش نظر رکھا جائے تو اس مہینے کی عظمت بھی بڑی کھل کر انسانی ذہن پر واضح ہوتی ہے اور دوسرے اپنی ذمہ داریاں بھی انسان پر خوب کھل کر واضح ہو جاتی ہیں۔یعنی سارے قرآن کے اوپر عمل کرنے کی کوشش ایک مہینے کے اندر اندر ایک غیر معمولی ایکسر سائز، Intense Exercise کی صورت میں ہمارے سامنے آتی ہے ایک ایسی جدو جہد اور کوشش ہے جو ساری زندگی کا خلاصہ ہے اور اس ورزش سے گزرنے کے بعد انسان کی صحت ہر پہلو سے، خدا کے فضل کے ساتھ پہلے سے بہت زیادہ ترقی کر جاتی ہے۔چنانچہ قرآن رمضان میں اتارا گیا اور رمضان کے بارے میں اتارا گیا۔یہ بات کن معنوں میں ہے۔قرآن کریم خود اس کی تشریح فرماتا ہے۔قرآن کیا ہے هُدًى لِلنَّاسِ یہ