خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 151
خطبات طاہر جلد ۱۲ 151 خطبه جمعه ۱۹ار فروری ۱۹۹۳ء منادی کرنے والا ہے وہ اور ہو گا اور وہ اس کے نام پر منادی کرے گا۔چنانچہ میں نے بھی جب اس عالمی پروگرام میں شرکت کی تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام دنیا تک پہنچایا نہ کہ نعوذ باللہ خود مہدی بن کر ظاہر ہوا۔دراصل یہ پھل ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خصوصاً پاکستان کے احمدیوں کے صبر کا ہے اور ان کی مسلسل قربانی اور جدوجہد کا اور راضی برضا ر ہتے ہوئے خدا تعالیٰ کی راہ میں تکلیفیں برداشت کرنے کا پھل ہے۔قید کی صعوبتیں جھیلنے کا پھل ہے۔جان و مال، عزت کی قربانی پیش کرنے کا پھل ہے۔چنانچہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعض تحریروں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایسا ہونا مقدر تھا اور ضرور تھا کہ جماعت صبر کے امتحانوں میں ڈالی جاتی اور اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ یہ برکتیں بخشا۔مولوی ابو رحمت صاحب نے عرض کی حضور میرے واسطے دعا فرمائی جاوے کہ پیشتر تو میری زندگی اور رنگ میں تھی مگر اب جب سے میں نے علی الاعلان حضور کے عقائد کی اشاعت اپنا فرض مقرر کر لیا ہے تو میری برادری بھی مخالف ہوگئی اور درپئے آزار ہے اور عام طور پر لوگ بھی مجمعوں میں کم آتے ہیں۔“ اس قسم کا ایک واقعہ حضرت اقدس محمد مصطفی میہ کے زمانے میں بھی ہوا۔ایک صحابی نے عرض کی ! یا رسول اللہ آپ پر ایمان لانے سے پہلے میری اور شان تھی میں قبیلے میں بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔کسی کی مجال نہیں تھی کہ میرے طرف انگلی اُٹھا سکے۔اب تو گلیوں کے کمینے بھی مجھ پر باتیں کرتے ہیں۔تو اسی قسم کے درد میں ڈوبے الفاظ میں انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حضور اپنا حال پیش کیا تو آپ نے فرمایا۔" آپ صبر سے کام لیں اور استقلال رکھیں آپ دیکھ لیں گے کہ پہلے سے بھی زیادہ لوگ آپ کے مجمعوں میں جمع ہوں گے اور ساری مشکلات دور ہو جاویں گی۔ایسی مشکلات کا آنا از بس ضروری ہے دیکھو امتحان کے بغیر کسی کی کچھ قدر نہیں ہوتی دنیا ہی میں دیکھ لو کہ پاسوں کی کیسی پوچھ ہوتی ہے کہ کیا پاس کیا ہے؟ پس جو لوگ خدائی امتحان میں پاس ہو جاتے ہیں پھر ان کے واسطے ہر طرح کے