خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 148 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 148

خطبات طاہر جلد ۱۲ 148 خطبه جمعه ۱۹ار فروری ۱۹۹۳ء فضل سے ہمیں موقع ملا ہے بہت سے بچھڑے ہوؤں کو اس رنگ میں ملانے کا۔ایک جگہ ایک اور خبر بھی اس قسم کی آئی تھی وہاں بعض غیر احمدی و فودان بوسنین سے ملے جن کا ہمارے ساتھ تعلق تھا اور بہت لمبی تقریریں کی گئیں کہ یہ احمدی بالکل کافر، ان کا دین سے کوئی تعلق نہیں اور فلاں حکومت نے یہ کیا ، فلاں نے یہ کیا۔سب باتیں سن کر ان کو زیادہ تو نہ بات سمجھ آئی ہوگی اور انگریزی دان بھی بہت کم ہیں ان میں مگر جو جانتا تھا انگریزی اس نے ساری باتیں سنی اور آخری جواب صرف اتنا دیا Ahmadies very good Muslims جنہوں نے دیکھا آنکھوں سے کہ اچھے مسلمان ہیں وہ کانوں کی باتوں پر کیسے اعتبار کر جائیں گے جو آنکھ دیکھتی ہے اس کا اعتبار بہت زیادہ ہے اس کی نسبت جو کان سنتا ہے۔ایک لیڈی ڈاکٹر کے متعلق اس نے لکھا ہے کہ انہوں نے کہا پہلے وہ مسلمان ہیں جنہوں نے ہمارے زخموں پر پھاہا رکھنے کی کوشش کی ہے لیکن ساتھ ہی بڑے جذباتی رنگ میں کہا کہ آپ کا قصور ہے کہ پہلے کیوں نہ ہم تک پہنچے، ہم گرجوں سے وابستہ رہے اور سال کا پہلا دن معلوم ہوتا ہے اس کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ایک گرجا میں گزارا، کاش آپ پہلے آئے ہوتے تو ہم مسجد میں جا کر وہ سال کا پہلا دن بسر کرتے۔بہر حال ساری جماعت کو ان لوگوں کے حالات دنیا کے سامنے لاکر اور جو جو باتیں میں نے آپ کے سامنے نئی رکھیں ہیں ان کو پیش نظر رکھ کر بڑی مستعدی کے ساتھ نئے منصوبے بناتے ہوئے اپنے مظلوم بھائیوں کی خدمت کرنی چاہئے اور میں اُمید رکھتا ہوں کہ چونکہ اب خطبے براہ راست سنائے جاتے ہیں اس لئے اب وہ فکر نہیں رہی کہ منتظمین بات سنیں اور آگے نہیں پہنچا ئیں اور پانی کھیتوں تک پہنچنے کی بجائے کھالے ٹوٹ ٹوٹ کر ہی بہہ جائیں۔اب تو اللہ کے فضل سے ایک ایک پودا نظر کے سامنے ہے اور میں ان کو اپنے ایمان اور محبت کی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں اور وہ مجھے براہ راست جسمانی آنکھوں سے بھی دیکھ رہے ہیں تو اس کی بڑی برکت ہے۔اتنی جلدی دنیا سے جواب آتے ہیں کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے ایک تحریک ہوئی اور فور آدنیا کے کونے کونے سے فیکسز آنی شروع ہو گئیں کہ ہماری طرف سے یہ حاضر ہے، یہ حاضر اور ہم یہ پروگرام بنا رہے ہیں اس سے پہلے مہینوں لگ جایا کرتے تھے اور اس کے باوجود بھی تسلی نہیں ہوتی تھی بھاری اکثریت ایسی تھی جس سے واقعۂ خلافت کا