خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 147
خطبات طاہر جلد ۱۲ 147 خطبه جمعه ۱۹ فروری ۱۹۹۳ء ہے جو زندہ رہنے کے لائق ہے۔ پس مسلمانوں کی دوسری تنظیمیں کئی ابھی تک کام کر رہی ہیں خاص طور پر بعض فلسطینی تنظیمیں ہیں جو اللہ کے فضل سے بڑے اخلاص سے بہت ہی مستقل مزاجی سے خدمت کر رہی ہیں ان سب کے ساتھ ہمارا تعاون رہے گا اور جماعت کی طرف سے کم از کم کبھی کوئی ایسی بات نہیں ہونی چاہئے جس کے نتیجے میں کسی قسم کی فرقہ وارانہ تفریق پیدا ہو یا اس کا وہم ہی دلوں میں پیدا ہو۔ ہاں جو خود پوچھے یا مذہب کی ضرورت کے لئے بعض چیزوں کی طلب کرے جیسا کہ لوگ پوچھتے ہیں قرآن کریم کا ترجمہ یا نماز کا ترجمہ و غیرہ وہ تو ہم بہر حال انشاء اللہ تعالی پیش کریں گے۔ ایک اور خدمت جو جماعت بڑی عمدگی سے کر رہی ہے وہ یہ ہے کہ مختلف کیمپوں میں مہاجرین کی لسٹیں بنا کر ان کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ میں نے یہ ہدایت کی تھی ابھی تک مجھے اس کی طرف سے پوری طرح تسلی نہیں ہوئی لیکن میں اسی غرض سے دوبارہ دہرا رہا ہوں کہ ہمیں جہاں جہاں بھی بوسنین ٹھہرے ہوئے ہیں ان کی فہرستیں نام وار نہیں بلکہ گاؤں کے لحاظ سے اور علاقے کے لحاظ سے مرتب کرنی چاہئے اور پھر ان کو آگے اسم وار ترتیب دینا چاہئے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے یہاں رابطوں میں دیکھا ہے کہ دس پندرہ میں میل کے فاصلے پر ہی دو مختلف کیمپ ہیں ان میں بعض بچھڑے ہوئے موجود ہیں اور ان کو پتا ہی نہیں کہ ہم اتنے قریب ہیں۔ جب اسلام آباد میں پروگرام ہوا جس میں میں نے بھی شرکت کی تھی تو دو خواتین نے جو مختلف کیمپوں سے آئیں تھیں ایک دوسرے کو دیکھا تو خوشی سے ان کی چیخیں ہی نکل گئیں، دوڑ کر بغلگیر ہوئیں اور پھر ایک خاتون نے بتایا کہ ہم ایک ہی گاؤں کی ہیں قریبی رشتہ دار ہیں ہمیں پتا ہی نہیں تھا کہ ہم اتنے قریب آچکے ہیں تو اس پر میں نے جماعتوں کو ہدایت کی تھی کہ تمام کیمپوں سے جن سے بھی رابطہ ہے۔ وہاں کی فہرستیں تیار کریں دیہات کے لحاظ اور پھر اسم واران کو ترتیب دیں اور ان کا تبادلہ ہونا چاہئے تمام کیمپوں کے ساتھ ۔ گویا آپ کے پاس ایک ڈکشنری سی بن جائے جب بھی کوئی مسلمان بوسنین مہاجر چاہے کہ اس کے کسی رشتہ دار کا پتا لگے کہاں ہے؟ تو وہ اپنا گاؤں تو جانتا ہے فوراً گاؤں کی فہرست دیکھ لے گا اور اس گاؤں کے جتنے بھی مہاجر کہیں موجود ہیں ان کی فہرستیں ہمارے پاس تیار ہوں گی۔ اس سلسلہ میں بعض جماعتوں کی طرف سے اطلاع مل رہی ہے انگلستان کی ایک جماعت نے بھی ابھی اطلاع دی ہے کہ خدا کے