خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 142
خطبات طاہر جلد ۱۲ 142 خطبہ جمعہ ۱۹/فروری ۱۹۹۳ء اسلام سے کہ ہم نے فیصلہ کیا کہ آئندہ سے کسی مسلمان سے ملاقات نہیں کرنی۔وہ ایک چرچ میں ٹھہرے ہوئے تھے جس کا مطلب یہ ہے کہ ان مولویوں نے ان کو لازماً عیسائی بنا کر چھوڑنا تھا۔خدا کے فضل سے جماعت احمدیہ کوتو فیق ملی ان کی خدمت کی اور ان کو سینے سے لگایا اور پیار دیا۔اس کے بعد ان کی کایا پلٹ گئی اور پھر انہوں نے واقعات سنائے خود ہی مختلف جگہوں سے جو واقعات مل رہے ہیں اس جگہ صرف بات نہیں کر رہا۔ایسے واقعات سنائے ہیں کہ ہمیں چرچ کی طرف سے مجبور کیا جاتا رہا ہے کہ ہم سور کا گوشت کھائیں اور سور کے گوشت کے سوا اور کوئی گوشت دیتے ہی نہیں تھے تو ہم نے صاف انکار دیا۔اتنا اسلام تو بہر حال ان میں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے کہا ہم زیادہ پکے مسلمان نہ سہی مگر سو کبھی نہیں کھائیں گے اس لئے وہ سبزیاں جو بھی تھیں اس سے گزارہ کیا بالآخر وہ ނ لوگ مجبور ہو گئے اور پھر انہوں نے سو راس Menu سے ہٹا لیا۔اس ضمن میں جو نمونے ہیں چند خدمت کے وہ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔بعض مہاجر بچیوں کی یہاں شادیاں ہوئیں ان کی شادیوں میں جماعت نے خاص طور پر خواتین نے بہت خدمت کی ہے حصہ لیا ہے۔بچوں کی ولادتیں ہوئیں ہیں اس موقع پر خاص طور پر جماعت کے بہت سے خاندانوں نے مل کر ان کو تحائف بھی پیش کئے اور زچہ و بچہ کا خیال رکھا۔گرم کپڑے بستر کھانے پینے کی اشیاء اور مالی امداد جہاں جہاں ضرورت پیش آتی ہے سب یورپین جماعتیں خدا کے فضل۔اس میں آگے بڑھ رہی ہیں کچھ رپورٹیں میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔میں جب اوپر گھڑی کی طرف دیکھتا ہوں تو مختلف ممالک سے لوگ لکھتے ہیں کہ آپ گھڑی کی طرف دیکھتے ہیں تو ہمارا دل گھٹتا ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں جب وقت گھٹ رہا ہے تو ساتھ ساتھ دل بھی گھٹے گا، جب دوطرفہ محبت کے تعلقات ہوں گے تو ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔ایک نوجوان نے لکھا ہے لا ہور سے کہ مجھے آج پہلی دفعہ پتا لگا ہے کہ ہمارا اور آپ کا محبت کا تعلق ہے اور یہ اب اور بڑھ رہی ہے تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ٹیلی ویژن کی برکتیں ہیں خدا کرے یہ پروگرام پھیلیں پھولیں پھلیں۔اب میں کچھ واقعات سناتا ہوں ۶۰ بوسنین مہاجرین کا ایک وفد نماز جمعہ کے لئے لانے کا انتظام کیا گیا۔یہ ۶۰ لفظ کا جو ہندسہ ہے یہ صرف ایک دفعہ جمعہ کی بات ہے ہر جمعہ پر کوشش کی جاتی ہے کہ نئے وفود آئیں اور ہر جمعہ پر کبھی ۶۰ یا ۸۰ کبھی ۱۰۰ افراد پر مشتمل وفود بھی آتے ہیں تو یہ نہ سمجھیں