خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 133
خطبات طاہر جلد ۱۲ 133 خطبه جمعه ۱۲ فروری ۱۹۹۳ء جب بھی جماعت نے ان سے رابطہ قائم کیا ہے۔ہر دفعہ ان کا ہمیشہ یہی جواب ملا ہے کسی جگہ بھی استثناء نہیں کہ ہاں ہمیں آپ کچھ دے رہے ہیں شکریہ، بہت ممنون ہیں لیکن ہمارے جو مجاہد پیچھے رہ گئے ہیں ان کا خیال کریں، ان کے لئے ضرور کچھ رقم پیش کریں چنانچہ اب میرا ارادہ ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ جماعت کی طرف سے جو بھی رقم ملا کرے گی اس کو صرف مقامی طور پر مہاجرین کے لئے خرچ نہیں کیا جائے گا بلکہ ان کی مرکزی تنظیم کے حوالے ایک حصہ کو اور بڑے حصہ کو کیا جائے گا تا کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق مختلف مصارف میں اس کو استعمال کریں۔میں امید رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ جماعت کے دلوں کو بھی کھولے گا اور اس کے نتیجہ میں لازماً اپنے فضلوں کو بڑھائے گا۔یہ جو بات ہے یہ ہے تو بڑی پختہ اور یقینی، لیکن اس کے ساتھ منسلک کر کے قربانی نہیں کرنی چاہئے لیکن یہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ قربانی آپ کریں گے تو آپ کی قربانی خدا کے ہاں اس دنیا میں ہی بڑھا کر واپس کی جائے گی قرضہ حسنہ کے متعلق میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کسی کا قرض نہیں رکھتا اور اس دنیا میں بھی بڑھا کر دیتا ہے اور اُس دنیا میں بھی بڑھا کر دیتا ہے۔میں نے گزشتہ سے پیوستہ خطبہ میں ایک احمدی بزرگ کا ذکر کیا تھا انہوں نے اپنے ایک خط کے ذریعہ اپنے ایک نواسے کو نصیحتیں کی ہوئی تھیں اس میں اپنے کچھ تجربے بیان کئے تھے کہ میں مالی قربانی کرتا ہوں تو یہ مجھ سے ہوتا ہے، تم بھی ہمیشہ مالی قربانیوں کے میدان میں آگے بڑھنا۔اس کو وہ خط اتنے پیارے لگے کہ اس نے ان کی نقول مجھے بھجوائیں ان میں سے دو خطوط میں آپ کو سنانے کے لئے لے کر آیا تھا ایک تو پڑھ کر سنا دیا تھا ایک رہتا تھا جواب سنا دیتا ہوں وہ لکھتے ہیں :- ۱۹۹۲-۹۳ء کا حال سنئے ( یعنی پہلے اور با تیں بیان کر رہے ہیں ) سیلاب سے فصل کپاس اکثر علاقوں میں تباہ ہوگئی جو سیلاب سے بچ گئی ہے اس کو بارشوں کی وجہ سے بہت کم پھل آیا ہے۔نقصان کا اندازہ میں فیصدی سے لے کر اسی فیصد تک لگایا گیا ہے۔ایک دوست کی ۳۷ بھیگہ کپاس کی پہلی چنائی۔امن ہوئی، وہ چندہ میں نادھند ہیں۔میری ۹ بھیگہ کپاس کی پہلی چنائی ۲۵من ہوئی اس سال میرا بجٹ چندہ مبلغ ۲۵۰۰ روپیہ تھا۔پہلی چنائی سے مجھے۴۵۵۰ روپے کی آمد ہوئی جس میں سے ۲۵۰۰ روپے چندہ مورخہ ۱۹/ نومبر ۱۹۹۲ء کو ادا کر دیا ہے، سارے موضع میں اوسط کے لحاظ سے کپاس کے معاملہ میں میں اول نمبر پر ہوں۔