خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 132 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 132

خطبات طاہر جلد ۱۲ 132 خطبه جمعه ۱۲ فروری ۱۹۹۳ء نہیں بھر سکتی۔هَلْ مِنْ مَّزِيْدِ (ق: ۳۱) کا سا عالم ہے جہنم کو اس پہلو سے مال کی محبت سے ایک مشابہت ہے جہنم کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ جتنا ڈالا جائے وہ پھر کہتی ہے۔هَلَّ مِنْ اے خدا اور بھی کچھ ہے تو اور بھی لا کیونکہ آگ کی طلب چونکہ جس چیز کو طلب کرتی ہے اس کو کھا جاتی ہے اس لئے اس کو مزید کی طلب پوری نہیں ہوا کرتی اور یہ مضمون ویسے ہی بڑا لطیف ہے آگ اپنی بقاء کے لئے ضروری ہے تو مال کی محبت بھی ایسی ہے کہ جتنا مال مل جائے وہ گویا کھایا گیا وہ اس کی آگ میں جل جاتا ہے اور لطف دینا چھوڑ دیتا ہے اس لئے زیادہ کا جو چسکا پڑا ہوا ہے وہ پھر طلب کرتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم نے فرمایا کہ ابن آدم کا پیٹ تو کوئی چیز نہیں بھر سکتی اس کو ایک وادی دو گے تو کہے گا اب دوسری وادی بھی دو۔غالب نے اس مضمون کو اس رنگ میں بیان کیا ہے کہ دونو جہان دے کے، وہ سمجھے ، یہ خوش رہا یاں آ پڑی شرم کہ، تکرار کیا کریں (دیوان غالب صفحہ: ۱۶۹) خدا نے ہمیں دونوں جہان دے دیئے اور سمجھا کہ ہم خوش ہو گئے دونوں تو دے دیئے ہیں۔اب کیا تکرار کی جائے تو ایک وادی کے بعد دوسری وادی کی طلب اور دو وادیاں مل جائیں تو پھر چار وادیوں کی طلب۔دو جہان مل جائیں تو پھر اگلے دو جہان کے متعلق خواہش ، نظر نہ آئے تو انسان چپ کر جائے تو کر جائے ورنہ دل تو یہی چاہے گا کہ دو جہان بھی کافی نہیں ہیں۔تو یہ امیر دنیا کا حال ہے اس لئے مجبوراً ان کی خاطر میں بعض دفعہ یہ بیان کیا کرتا تھا کیونکہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ میں نے یہ دیا ہے تو پھر ان کو شوق پیدا ہوتا ہے کہ ہم اس سے بڑھ کر دکھا ئیں تو میں نے اللہ کے فضل سے بوسنیا کی مد میں ایک ہزار پہلے پیش کیا تھا۔اب میں نے پانچ ہزار کا اضافہ کر کے چھ ہزار پاؤنڈ کر دیا ہے تا کہ ہمارے جو متمول احمدی دنیا بھر میں ہیں ان کو یہ پیغا م مل جائے۔میں نے ایک فارمولہ یہ پیش کیا تھا کہ میں ایک کروں تو آپ سارے مل کر سو تو کریں۔پس میں سمجھتا ہوں کہ اگر صرف ۱۰۰ متمول احمدی چھ چھ ہزار پاؤنڈ پیش کر دیں یعنی پہلے جو دیا ہے اس کو بیچ میں سے بے شک منہا کرلیں تو یہ ایک کافی رقم مہیا ہو جائے گی اور بوسنین کو ضرورت بہت زیادہ ہے۔بعض ملک ایسے ہیں کہ ایک ایک ملک میں ستر ستر ہزار مہاجر بیٹھا ہوا ہے اور سب کچھ لٹا کر آیا ہوا ہے اور