خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 131 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 131

خطبات طاہر جلد ۱۲ 131 خطبه جمعه ۱۲ فروری ۱۹۹۳ء جماعت کو غیر معمولی قربانی کی جو تو فیق مل رہی ہے۔وہ ہر میدان میں اپنے رنگ دکھا رہی ہے۔بوسنیا کے متعلق میں نے ذکر کیا تھا اور گزشتہ خطبہ میں جس وقت میں نے بوسنیا کی سابقہ تحریک اور اس کے نتیجہ میں جماعت کی طرف سے لبیک کا ذکر کیا تو ابھی نسبتاً بہت تھوڑی مقدار میں یہ قربانی پیش کی گئی تھی لیکن جماعت کا جو رد عمل ہے اس کا دراصل میری ذات کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔وہ میری آواز سے میری طرز سے سمجھ جاتے ہیں کہ اس جگہ بہت زیادہ آگے بڑھنے کی تحریک ہے اور بعض دفعہ وہ سمجھ جاتے ہیں کہ اچھی نیکی کی تحریک ہے مگر اتنے بوجھ اور بھی ہیں کہ اس بات کو دھیما دھیما لو تو پہلے جب میں نے بوسنیا کا ذکر کیا تھا تو عمومی تحریکات میں ذکر کیا تھا۔غیر معمولی زور نہیں دیا تھا گزشتہ خطبہ میں اور اس سے پہلے ایک خطبہ میں میں نے بوسنیا کا جو ذکر کیا ہے تو اس کا رد عمل یہ ہوا ہے کہ اللہ کے فضل سے تاروں کے ذریعہ اور دوسرے برقی پیغامات کے ذریعہ فیکسز وغیرہ کے ذریعہ دنیا سے غیر معمولی قربانی کے مظاہرے ہونے شروع ہوئے ہیں اور خود انگلستان میں دوسرے روز ہی ایک خاتون مجھ سے ملنے آئیں اپنے سارے خاندان کی طرف سے چھ ہزار پاؤنڈ کا چیک پیش کیا اور راولپنڈی سے ایک مخلص احمدی ڈاکٹر نے دس ہزار ڈالر کا چیک بھجوا دیا اور ہزار ہزار، پانچ پانچ سو اس قسم کے بہت سے قربانی کے وعدے بلکہ نقد ادائیگیاں اور پھر عورتوں کی طرف سے زیوروں کی صورت میں غیر معمولی اخلاص کے اظہار ہونے شروع ہوئے ہیں جن کے نتیجہ میں ان سب کے لئے دل کی گہرائیوں سے دعا نکلتی ہے۔میں نے ایک ذکر یہ بھی کیا تھا کہ جب تک میں اپنے ذاتی چندہ کا ذکر کیا کرتا تھا اس کی نسبت سے جماعت کے متمول لوگ اپنے چندہ کو بڑھاتے تھے۔جب ذکر چھوڑ دیا ہے تو اس طبقہ میں کچھ کمزوری آئی ہے جہاں تک عام غرباء کا تعلق ہے یا درمیانے درجہ کے احمدی مسلمانوں کا تعلق ہے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسلسل اسی طرح قربانی کر رہے ہیں لیکن امیر طبقہ کا حال یہ ہے کہ اگر اس کو خاص طور پر جھنجھوڑ نہ جائے تو بہت جلدی سوتا ہے کیونکہ مال کی کثرت مال کی محبت کو بھی بڑھاتی ہے۔یہ قرآنی اصول ہے یہ کوئی میرے منہ کی بات نہیں۔قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ مال ایسی چیز ہے کہ اگر مال زیادہ عطاء ہو تو محبت بھی ساتھ بڑھتی چلی جاتی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم نے بھی اس مضمون کو بڑا کھول کر قرآن کریم کی تفسیر کے رنگ میں پیش فرمایا ہے۔ابن آدم کا پیٹ کوئی چیز