خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 129 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 129

خطبات طاہر جلد ۱۲ 129 خطبه جمعه ۱۲ فروری ۱۹۹۳ء تو یہ جو کیفیت ہے اسی کیفیت کا دراصل قرآن کریم میں ذکر ہے، فرماتا ہے۔وَأُخرى تُحِبُّونَهَا ہم جانتے ہیں ہماری تمہارے دلوں پر نظر ہے یہ نہ سمجھو کہ ہمیں علم نہیں۔صرف جنت کی خوشخبریوں کے یہ وعدے تمہیں پوری طرح تسکین نہیں بخش سکتے۔تم اور بھی باتیں چاہتے ہو۔نصر مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِیب اللہ کی نصر بڑی شان کے ساتھ تمہارے لئے آنے والی ہے۔وَفَتْحُ قریب اور تمہیں قریب ہی میں بڑی فتح عطا کی جائے گی وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ اے محمد! مومنوں کو خوشخبری دے دے کہ اُن کی ساری آرزوئیں پوری ہوں گی ، آخرت کی بھی اور دنیا کی بھی۔آخرت کی آرزوؤں کو اس لئے پہلے ذکر کیا کہ دراصل وہی باقی رہنے والی ہیں۔انسان اپنی بے وقوفی اور غلطی کی وجہ سے یا عجبلت کی وجہ سے پہلے دنیا کی خواہشوں کی تمنا کرتا ہے اور پھر آخرت کی طرف اس کی نگاہ جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی نظر چونکہ وقت کے ساتھ وابستہ نہیں وہ ایک ایسی نظر ہے جو زمان و مکان سے بالا نظر ہے، نہ وقت کی قید اس کو محدود کرتی ہے نہ مکان کی قید سے محدود کرتی ہے اس لئے وہ حقیقت کو دیکھتا ہے اور جس حقیقت میں زیادہ شان پائی جاتی ہوا سے پہلے بیان فرماتا ہے۔بعض دفعہ مضمون اور طرف میں بدل بھی جاتا ہے مگر یہاں اس صورت کا اطلاق ہو رہا ہے۔خدا نے پہلے آخرت کی خوشخبریاں دیں کہ وہی باقی رہنے والی ہیں۔جَنَّتِ عَدْنٍ وہی ہیں لیکن ہم جانتے ہیں کہ انسان کمزور ہے اور دنیا کے اوپر اس کی نظر ہے۔دل چاہتا ہے کہ یہاں بھی کچھ ہو جائے تو فرمایا کہ فکر نہ کرو، یہاں بھی کچھ ہوگا۔تمہیں ضرور نصر عطا کی جائے گی ،ضرور فتوحات تمہارے قدم چومیں گی۔پس اہل بنگال اور بنگال کی جماعتوں کو یہ خوشخبری ہے کہ جو کچھ ہوا ہے اُس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کے فضل مختلف صورتوں میں ظاہر ہوں گے، آخرت سے تعلق رکھنے والے فضل بھی نازل ہوں گے اور دنیا سے تعلق رکھنے والے فضل بھی نازل ہوں گے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس خوشخبری میں صرف بنگال کے احمدی ہی نہیں بلکہ بنگال کے عوام الناس بھی عموماً داخل ہیں اس لئے کہ بنگالی مزاج میں ایک ایسی شرافت پائی جاتی ہے جو مذہبی جنون رکھنے والی قوموں میں عموما نہیں پائی جاتی۔مذہبی جنونی تو وہاں موجود ہیں لیکن بنگال کا مزاج عدل والا مزاج ہے اور عقل کے لحاظ سے میں نے بنگالی کا دماغ دیکھا ہے کہ ہمارے پنجابیوں کی نسبت روز مرہ کے معاملات میں سیاست میں مسائل کو سمجھنے میں بہت زیادہ روشن ہے۔وجہ یہ نہیں ہے کہ اُن کے دماغ کی قسم اچھی ہے بلکہ وجہ یہ ہے کہ اُن میں انصاف