خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 122
خطبات طاہر جلد ۱۲ 122 خطبه جمعه ۱۲ فروری ۱۹۹۳ء اس مضمون میں بہت گہرائی ہے۔قرآن کریم میں جب ترتیب بدلی جاتی ہے تو بہت گہرے مطالب کو پیش نظر رکھ کر بدلی جاتی ہے۔اس سلسلہ میں، میں پھر دوبارہ بات کروں گا۔قرآن کریم کا ایک تیسرا طریق یہ ہے کہ دونوں کا اکٹھا کر فرماتا ہے۔موقع اور محل کے مطابق ایک قربانی کا ذکر فرما کر اس کی جزاء بعض شر سے بچانے کی صورت میں بھی دیتا ہے اور وعدہ فرماتا ہے اور بعض عطاؤں کی صورت میں اس کا ذکر کرتا ہے جیسا کہ فرمایا: إِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيْكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ ( حم السجدہ: ۳۱) کہ وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ ہمارا رب صرف خدا ہے اور ہر دوسرے رب کا انکار کر دیتے ہیں۔یہ ایسا مضمون ہے جو اس آیت میں شامل ہے یعنی بظاہر کھلے کھلے لفظوں میں نہیں فرمایا گیا لیکن بالکل واضح طور پر اس میں شامل ہے۔صرف ربنا اللہ نہیں کہتے بلکہ ہر غیر اللہ کی ربوبیت کا انکار کرتے ہیں ثُمَّ اسْتَقَامُوا پھر وہ استقامت اختیار کر جاتے ہیں۔استقامت کا مضمون دراصل بتا رہا ہے کہ غیر اللہ کا انکار انہوں نے کیا ہے۔ورنہ خالی آپ ، ہمارا رب، ہمارا رب کہتے رہیں تو دنیا کو کیا مصیبت پڑی ہے۔کیا سودا اٹھا ہے کہ آپ کے پیچھے پڑ جائے، دنیا اپنی ربوبیت کے انکار کے نتیجہ میں غصہ دکھاتی ہے جب آپ اُن سے مستغنی ہوتے ہیں اور صرف خدا کے ہو جاتے ہیں ، غیروں کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیتے ہیں ، تب آپ کے خلاف مخالفتوں کی ہمیں چلائی جاتی ہیں۔اس لئے اس مضمون میں یہ بات شامل ہے اس کا نتیجہ کیا ہے۔فرمایا۔تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيْكَةُ أَلَّا تَخَافُوا - خالى رَبُّنَا اللہ کہنے سے تو کوئی خوف وارد نہیں ہوا کرتے ، جب غیر اللہ کا انکار کرتے ہیں تو پھر ہرطرف سے خوف گھیر لیتے ہیں اور وہ خوف کچھ طبعی ہیں اور کچھ مصنوعی۔طبعی یہ کہ جب آپ صرف خدا کو رب بنالیں اور غیر سے مدد مانگنا چھوڑ دیں۔یہ ایک ایسا مضمون ہے جو بڑے لمبے سفر کا حال بیان کرتا ہے۔غیر اللہ سے ربوبیت کا تعلق تو ڑ نا کوئی ایسی بات نہیں ہے جو اچا نک واقع ہو جائے وہ لوگ جو غیر اللہ سے ربوبیت کا تعلق توڑ کر اللہ کی ربوبیت میں آتے ہیں۔وہ ایک لمبا سفر اختیار کرتے ہیں۔آہستہ آہستہ، آہستہ آہستہ، لمبے عرصہ تک تھوڑاتھوڑا تعلق پہلے تو ڑا جاتا ہے اور پھر