خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 120 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 120

خطبات طاہر جلد ۱۲ 120 خطبه جمعه ۱۲ فروری ۱۹۹۳ء وو کوئی تعلق نہیں ہے۔بعض لوگ اس طرح کھلے کھلے لفظوں میں یہ تو نہیں کہتے لیکن یہ کہہ دیتے ہیں کہ آپ بہت بزرگ لگنے لگ گئے ہیں اور ماشاء اللہ ایک اور سارنگ آ گیا ہے بعض کہہ دیتے ہیں کہ بہت کمزور لگنے لگ گئے ہیں بعض تعلقات ایسے ہوتے ہیں جس میں انسان کھل کر صاف بات کہہ نہیں سکتا تو کہنا یہ چاہتے ہیں کہ تم بوڑھے ہو گئے ہو لیکن مختلف بہانے بناتے ہیں۔اس پر مجھے اپنے ملک کا مزاج یاد آ گیا کہ عام طور پر تو سادہ لفظ بہت اچھا ہے۔نیک صاف فطرت والے لوگ جن میں کوئی تصنع نہ ہوان کو سادہ کہا جاتا ہے مگر ہمارے ملک کا رواج یہ ہے کہ کسی بڑے آدمی کو بیوقوف کہنا ہو تو اس کو بھی سادہ کہتے ہیں۔کہتے ہیں ہمارے فلاں صاحب بڑے سادہ ہیں، مطلب یہ کہ کافی بیوقوف آدمی ہیں تو سیدھا سادہ بوڑھا کہو یہ کیا مطلب ہوا کہ بزرگ لگنے لگ گئے ہو۔یہ ہے وہ ہے، جہاں تک کمزوری کا معاملہ ہے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے کوئی کمزوری نہیں ہے خضاب سے انسانی جسم کی طاقت کا کوئی تعلق نہیں۔آپ کو مجھے دیکھ کر کوئی تقویت ملتی ہوگی لیکن میری ذات کو خضاب سے کبھی کوئی تقویت نہیں ملی تھی اور اللہ کے فضل سے میں اسی طرح صحت مند ہوں جس طرح پہلے تھا اور اگر کوئی کمزوریاں پہلے تھیں تو اب بھی ہیں۔اللہ ان کو بھی دور فرما دے، گھبرائیں نہیں یہ جو رنگ بدلنا ہے یہ اتفاقی قدرتی چیزیں ہیں۔اللہ فضل فرمائے صحت کے لئے دعا کیا کریں۔اللہ تعالیٰ سب ذمہ داریوں کو ہمت کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق بخشے۔بنگلہ دیش کو پیغام کے سلسلہ میں میں نے آج انہی آیات کو موضوع بنایا ہے جن کی پچھلے خطبہ میں بھی تلاوت کی تھی اور مضمون پوری طرح بیان نہیں ہو سکا تھا۔بنگلہ دیش بہت ہی بڑے ابتلاء میں سے بلکہ بار بار بتلاؤں میں سے گزرا ہے اور ان پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ باوجود اس کے کہ جماعت چھوٹی اور دیکھنے میں کمزور ہے مگر ایمان اور ہمت اور استقلال اور بہادری میں اور ثابت قدمی میں دنیا کی کسی جماعت سے پیچھے نہیں بلکہ اکثر جماعتوں سے آگے قرار دیا جا سکتا ہے۔اتنے بڑے بڑے بوجھ، اس حیرت انگیز طریق پر جماعت نے اٹھائے اور ہمت سے مسکراتے ہوئے بغیر خوف کے اظہار کے بڑے بڑے خوفوں سے گزر گئے اور بڑے بڑے نقصانات کے رونے نہیں روئے اور اللہ کی حمد کے گیت گاتے ہوئے اس بات پر شکر کرتے ہوئے کہ خدا نے ہمیں توفیق بخشی اور استقامت عطا فرمائی۔وہ جماعت آگے سے آگے بڑھتی چلی جارہی ہے۔اور ہر ابتلاء کا فوری نتیجہ خدا