خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 118
خطبات طاہر جلد ۱۲ 118 خطبه جمعه ۱۲ فروری ۱۹۹۳ء کے عالمی جلسوں کی صورت بنادی ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعتوں پر اتنا گہرا اور اتنا انقلابی اثر پیدا ہورہا ہے کہ اس کے متعلق خواہ کتنا بھی اندازہ کیا جاتا لیکن اتنا اندازہ نہیں تھا کہ خدا تعالیٰ اس نئی صورت میں کتنی برکت رکھ دے گا اور جماعتوں کو کتنا غیر معمولی فائدہ پہنچے گا جو بہت سے خطوط ملتے ہیں ان کا کبھی کبھی میں مختصر ذکر کرتا ہوں لیکن یہ ذکر اب میری استطاعت سے بہت آگے نکل گیا ہے۔پہلے عموماً جو خطوط ملا کرتے تھے وہ ہزاروں کی تعداد میں بھی سہی لیکن اکثر و بیشتر انہی لوگوں کے تھے جو خط لکھنے کے عادی ہیں اور اب جو نیا دور شروع ہوا ہے اس میں بکثرت ایسے نئے احباب کی طرف سے اور خواتین اور بچوں کی طرف سے خطوط ملنے لگے ہیں جو ٹیلی ویژن پر خطبہ دیکھنے سے پہلے خطوں کا رابطہ نہیں رکھتے تھے اور بہت ہی زیادہ گہرے اثر کے نتیجہ میں انہوں نے اپنے خیالات اور جذبات اور ان پاک تبدیلیوں کا ذکر کیا ہے جو اللہ کے اس فضل کے نتیجہ میں ظاہر ہونا شروع ہوئی ہیں۔مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آیا کرتی تھی کہ ٹیلیویژن پر تو یہاں بھی خواتین دیکھتی ہیں اور ٹیلیویژن کے ذریعہ دیکھنے کا الگ انتظام تو یورپ میں عام ہے پھر آخر ٹیلی ویژن پر یہ اثر اتنا زیادہ کیوں پڑتا ہے۔میری بیٹی فائزہ نے جو آج کل پاکستان گئی ہوئی ہے اس نے مجھے فون پر بتایا کہ میں پہلے حیران ہوا کرتی تھی کہ آپ کن باتوں کا ذکر کرتے ہیں۔وہ کیا اثر ہے لیکن پاکستان آکر جب میں نے پہلی دفعہ خطبہ دیکھا ہے تو بیان نہیں کر سکتی کہ کیسا اثر تھا یوں لگتا تھا کہ واقعہ آپ آسمان سے اتر آئے ہیں اور سامنے ظاہر ہو گئے ہیں۔کہتی ہے سب بچے بڑے اور خواتین جو ساتھ تھیں یوں ٹکٹکی لگا کر دیکھ رہی تھیں جیسے ایک حیرت انگیز واقعہ ، ایک معجزہ رونما ہوتا ہے، تو دراصل یہ صرف ٹیلی ویژن کا قصہ نہیں ہے، ٹیلی ویژن پر دور دراز کے لوگوں کو دیکھنے کی تو سب دنیا کو عادت پڑ چکی ہے کوئی بڑی بات نہیں رہی ، یہ اللہ کا احسان ہے ، یہ خدا کا خاص اعجاز ہے جو اس نے جماعت کے حق میں دکھایا ہے، اس روز مرہ عام چیز نے ایسی غیر معمولی طاقت پیدا کر دی ہے کہ جو دلوں میں انقلاب بر پا کر رہی ہے تو اس احسان کو ہمیشہ ذہن میں رکھ کر ہمیں اللہ تعالیٰ کی حمد کے گیت گانے چاہئیں۔اس ضمن میں بعض اور باتیں بلکہ کئی اور باتیں ہیں، جو انشاء اللہ آئندہ کسی خطبہ میں بیان کروں گا کیونکہ جماعت احمدیہ آج کل جس نئے دور میں داخل ہوئی ہے اس کی پرانے صحیفوں میں