خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 115 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 115

خطبات طاہر جلد ۱۲ 115 خطبه جمعه ۵ فروری ۱۹۹۳ء پس مسلمانوں کے لئے نجات کے یہی دورستے ہیں جو سورۃ العصر نے ان کے لئے کھولے ہیں اور میں امید رکھتا ہوں کہ مسلمان ممالک میں اس بات کا احساس بیدار ہورہا ہے۔اب حال ہی میں پاکستان میں عدالت عالیہ نے افراد جماعت احمدیہ کی طرف سے متفرق مقدمات جو بہت دیر سے سالہا سال پہلے سے دائر کئے گئے تھے لیکن اس سے پہلے ہماری عدالت عالیہ خود بہتر جانتی ہے کہ کس حکمت کے پیش نظر ، مگر ان مقدمات کو سننے کی گویا طاقت ہی نہیں رکھتی تھی اب فضا بدلی ہوئی دکھائی دے رہی ہے کیونکہ عدالت عالیہ نے نہ صرف یہ کہ ان مقدمات کی شنوائی کی ہے بلکہ جس قسم کے تبصرے ہوئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم عدل کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑیں گے اگر یہ فیصلہ ہے تو میں پاکستان کو مبارک باد دیتا ہوں کہ تم ہلاکت سے بچائے گئے ہو ، اگر عدالت عالیہ سے انصاف کی ضمانت جاری کر دی جائے اور حکومت اس انصاف کو قبول کرلے تو ضرور اس ملک کے دن پھر جائیں گے اور ضرور یہ ملک حق کی طرف واپس لوٹتا نہیں تو لوٹا دیا جائے گا۔یہ خدا کی تقدیر کی طرف سے بہت ہی پیارا اشارہ مجھے دکھائی دیا ہے جیسے اندھیروں کی لمبی رات کے بعد کوئی روشنی کی رمق دکھائی دے۔عدالت عالیہ کے جو سب سے سینئر جج ہیں ان کے تبصروں سے بعض دفعہ بجھا ہوا دل ایک دم کھل اُٹھتا ہے اور بشاش ہو جاتا ہے کہ الحمدللہ پاکستان کی عدالتوں میں انصاف کے کیسے کیسے پیارے گل کھل رہے ہیں ایک موقعہ پر جب کہ پاکستان کے اٹارنی جنرل نے یہ سوال اُٹھایا کہ آپ بنیادی حقوق کی باتیں کر رہے ہیں، آزادی ضمیر کی باتیں کر رہے ہیں کیا پاکستان کے دستور اساسی کی اس شق پر آپ کی نگاہ نہیں ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اسلام کی Glory یعنی عظمت شان کی خاطر اگر کسی کو آزادی تقریر سے محروم کر دیا جائے تو یہ بھی جائز ہے اسلام کی عظمت شان اور Glory کے نام پر ہم مطالبہ کر رہے ہیں، تو عدالت نے کیسا خوب جواب دیا انہوں نے کہا بہت خوبصورت الفاظ ہیں بہت پیارے لیکن مجھے یہ بتائیں کہ کیا اسلام کی Glory اس بات میں ہے کہ اقلیتوں کو آزادی ضمیر سے محروم کر دیا جائے یا اسلام کی Glory اس بات میں ہے کہ اقلیتوں کو ان کے ضمیر کی تمام آزادیاں دی جائیں، کیسا پیار اجواب ہے خدا کرے! یہ رجحان زندہ رہے اور زیادہ طاقتور ہوتا چلا جائے ، خدا کرے کہ سازشوں کی دنیا میں ایسی سازشیں نہ پل سکیں جن کو پالنے کی ضرور کوشش کی جائے گی۔حسد کی دنیا میں ایسے حسد وہ شرنہ بن سکیں جو ایک معصوم کی زندگی کو جلا سکتے ہیں۔پس حسد کے شر