خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 114 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 114

خطبات طاہر جلد ۱۲ 114 خطبه جمعه ۵ فروری ۱۹۹۳ء مظلوموں کے حق میں کیوں آواز بلند نہیں کرتے ، کیوں نہیں کہتے کہ تم غلط کر رہے ہو اور جرات اور طاقت کے ساتھ یہ کیوں نہیں کہتے اگر یہ ایسا کریں تو جہاد کرنے والوں کو خدا تعالیٰ کی طرف صلى الله سے لازماً نصرت اور غلبہ کی بشارت ہے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی نصیحت ہے اس پر عمل کر کے تو دیکھیں۔قرآن نے فرمایا ہے حق پر قائم ہو گے تو تمہارا علاج ہوگا۔پس حکومتوں کا بھی فرض ہے کہ حق پر قائم ہوں اور تمام مسلمان عوام کا بھی برابر فرض ہے کہ خواہ وہ کسی دائرہ زندگی سے تعلق رکھتے ہوں کہ آج وہ حق کی طرف لوٹیں۔سچا ہونے کے نتیجہ میں اتنی عظیم طاقت نصیب ہوگی کہ دنیا کی کوئی طاقت اس سچائی کی طاقت کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔پھر صبر کی طرف لوٹیں صبر کے نتیجہ میں بھی جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا ہے کہ ڈیمز کا بنا بڑی بڑی غیر معمولی طاقتوں کو اکٹھا کرنے کا دوسرا نام ہے اور یہ صبر سے ہوتا ہے لیکن انسانی صبر دو طرح سے پھل لاتا ہے ایک تو صبر میں بذات خود قانون قدرت کے طور پر ایک طاقت ہے اور وہ طاقت غیر معمولی طور پر بڑھنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور مومن کے صبر کے ساتھ دوسرا مضمون دعا کا شامل ہے۔جب مومن صبر کرتا ہے تو اس کی دعاؤں میں غیر معمولی طاقت پیدا ہونے لگ جاتی ہے جب کوئی شخص خدا کے نام پر رک رہا ہے اور دل کے سارے تقاضے یہی ہیں کہ اب ٹوٹ پڑو اس وقت جان فدا کر دینے کا وقت ہے، عواقب سے بے خبر ہو جاؤ ، اپنے دل کی جلتی ہوئی آگ کا انتقام لو، اس وقت اگر خدا کی خاطر خدا کے نام پر کوئی شخص رک جاتا ہے تو نہ صرف یہ کہ صبر کی عمومی طاقت اسے نصیب ہوتی ہے بلکہ اس وقت کی دعا ضرور مقبول ہوتی ہے، یہ ویسی ہی مثال ہے جیسے ماں بچے کی زیادیتوں پر صبر کرتی ہے۔مسلمان بنی نوع انسان سے سچی ہمدردی کرتا ہے لیکن وہ اس پر ظلم کرتے چلے جاتے ہیں اور یہ صبر پر صبر کرتا چلا جاتا ہے۔یہاں تک کہ آخر یہ الله صبر کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے۔اس وقت کی دعا ضرور مقبول ہوتی ہے چنانچہ آنحضرت ﷺ نے اس مضمون کو ماں کے حوالے سے ہی بیان فرمایا ہے فرمایا ! خبر دار !وہ دعائیں جو نا مقبول نہیں ہوتیں ان میں ماں کی اپنے بچے کے خلاف بد دعا ہے۔( ترندی کتاب الدعوات حدیث نمبر : ۳۳۷۰) بڑا ہی بدنصیب بچہ ہے جس کے خلاف اس کی ماں دعا کر دے کیونکہ ماں کی فطرت میں صبر ہے وہ ظلم کسی خاص حد سے بڑھا ہوا ہے جس کے نتیجہ میں آخر ماں کا صبر ٹوٹا ہے اور ان معنوں میں صبر ٹو ٹا کرتا ہے کہ زمین سے بھی ٹوٹتا ہے اور آسمان سے بھی ٹوٹتا ہے۔