خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 110 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 110

خطبات طاہر جلد ۱۲ 110 خطبه جمعه ۵ فروری ۱۹۹۳ء لگ جاتے ہیں یعنی سطح پر ابھر آتے ہیں لیکن سطح کے نیچے ایک تلاطم برپا ہے۔وہ خدا جو عالم الغائب و الشهادة ہے اس کے لئے تو نہ سطح کی کوئی حقیقت ، نہ تہہ کی کوئی حقیقت، بیک وقت اس کی سطح پر بھی نظر ہوتی ہے اور تہ پر بھی نظر ہوتی ہے پس جھوٹ کا قرآن کریم میں جو نقشہ کھینچا گیا کہ کل عالم کو جھوٹ غرق کر دے گا۔انسان بحیثیت انسان جھوٹا ہو جائے گا اس کا تو ہمیں علم ہے ہم آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں لیکن صبر کا جو مضمون ہے اس کے بعض حصوں پر ہماری نظر ہے بعض حصوں پر نہیں ہے۔اس لئے پہلی گواہی کے سچا ہونے کے نتیجہ میں ہم پورا یقین کر سکتے ہیں کہ اگلی بات بھی ہر طرح کچی ہے یہ جو بڑی بڑی حکومتیں ہیں ان کے سر براہ اور حکومت پر فائز افسران یا سیاست دان یہ خود بھی بے چین ہیں اور یہ بے چینی بڑھ رہی ہے چنانچہ اس وقت یورپ میں جو کیفیت ہے اگر آپ گہری نظر سے یورپ کی سیاست کا تجزیہ کریں تو ہر حکومت پہلے سے بڑھ کر بے چین ہو رہی ہے اور امریکہ کا بھی یہی حال ہے ایک بے چینی کم کرتے ہیں تو دوسری بے چینی آلیتی ہے اور ایک طرف سے توجہ ہٹانے کی خاطر کوئی دوسرا ظلم کرتے ہیں تو جس طرف سے توجہ ہٹائی جاتی ہے وہاں مواد اٹھنا شروع ہو جاتا ہے اور ابلنا شروع ہو جاتا ہے۔تو اس وقت سارا عالم بے چین ہے۔نہ کوئی بڑا چین میں بیٹھا ہوا ہے، نہ کوئی چھوٹا صبر کے ساتھ ہے۔مسلمانوں کو ہدایت فرمائی کہ تم صبر سے کام لینا اور مسلمانوں نے چونکہ اس زمانہ میں خصوصیت سے مظلوم بنا تھا اس لئے خصوصیت سے صبر کی تلقین فرمائی۔پس مسلمان قوم کے لئے نجات کی دوہی راہیں ہیں۔بی پر قائم ہوں اور اس وقت بدنصیبی کے ساتھ مسلمان ملکوں میں اتنا جھوٹ ہے کہ جس طرح سڑے ہوئے گوشت میں سنڈیاں دکھائی دیتی ہیں اسی طرح کثرت سے جھوٹ بولنے والے سوسائٹی میں کلبلا رہے ہیں۔بہت ہی مکروہ نظارے ہیں اور چھوٹے بڑے اکثر جھوٹے ہو چکے ہیں سیاست دان تو بطور خاص جھوٹا ہے۔حکومت سے باہر رہتے ہوئے سیاست دان جھوٹ کو نفرت سے دیکھتا ہے ، جھوٹ پر تنقید کرتا ہے ، جھوٹ کو پاؤں تلے روندنے کے دعوے کرتا ہے مگر وہی سیاست دان جب حکومت میں آتا ہے تو جھوٹ اس کا اوڑھنا بچھونا بن جاتا ہے۔میں کسی ایک ملک کی بات نہیں کر رہا یہ ایک عمومی صورت حال ہے جو ساری دنیا میں دکھائی دیتی ہے اور مسلمان ممالک بد قسمتی سے اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔پس مسلمانوں کے