خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 107
خطبات طاہر جلد ۱۲ 107 خطبه جمعه ۵/فروری ۱۹۹۳ء ید ریزولیوشن Move کیا تھا انہوں نے بڑے ادب سے عرض کیا کہ حضور! ہم درخواست کر رہے ہیں اس کا جواب وہی ہو گا جو میں بتا چکا ہوں کہ چل اوے ٹیکیا نا منظور۔یہ انصاف کا اور دنیا میں امن قائم کرنے کا ایک پیمانہ ہے جو مغربی قو میں آپس کے تعلقات میں برتتی ہیں۔جب یوگوسلاویہ کے عیسائی یاد ہر یہ ظالم ہوں اور مسلمان مظلوم ہوں ، جب فلسطین کے مظلوم اور دنیا کے ستائے ہوئے بے چارے مسلمان مظالم کا نشانہ بنائے جارہے ہوں اور اپنے ساتھی سفید فام ظلم کرنے والے ہوں تو انصاف کے تقاضے، امن قائم کرنے کے پیمانے ،سب کچھ بدل جاتے ہیں۔دوسری طرف اگر مسلمان کو ظالم کے طور پر پیش کیا جائے خواہ وہ مسلمانوں پر ہی کر رہا ہو۔تو ان سے برداشت نہیں ہوتا کہ کوئی مسلمان کسی مسلمان پر ظلم کرے۔کہتے ہیں یہ صدام حسین کیسا مسلمان بنا پھرتا ہے اپنے مسلمان بھائیوں پر ظلم کر رہا ہے۔ہم دنیا کی آزاد قو میں برداشت کیسے کر سکتی ہیں کہ کوئی مسلمان اپنی رعونت میں اپنے مسلمان بھائیوں پر ظلم کرے۔جب بابری مسجد کے نتیجہ میں مظالم کا ایک سلسلہ شروع ہوتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ ان کی اندرونی باتیں ہیں ملک کے اندر کیسے کوئی دخل دے سکتا ہے۔بابری مسجد کے قصے، ہندوستان کے قصے، بیرونی طاقتوں کو کیا حق ہے کہ کسی اور ملک میں جا کر دخل اندازی کرے، تو یہ ہے انصاف کا عالم اور یہ نیو ورلڈ آرڈر ہے۔سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کو اس وقت کیا کرنا چاہئے ؟ کیا کر سکتے ہیں؟ جو بات میں کہوں گا وہ بظاہر عملاً آپ کو چھوٹی دکھائی دے گی لیکن بہت بڑی بات ہے کیونکہ قرآن کریم نے ان مسائل کا یہی حل بیان فرمایا ہے چنانچہ سورۃ العصر میں جس کا میں پہلے بھی بار ہاز کر کر چکا ہوں اس زمانے کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرمایا گیا۔وَالْعَصْرِف إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِی خُسْرٍ (اعصر :۳٫۲) زمانہ گواہ ہوگا کہ جب ناانصافی کی حکومت ہوگی جب عدل دنیا سے اُٹھ جائے گا تو انسان لازماً گھاٹے میں ہو گا اس میں نا انصافی اور عدل کے فقدان کا ذکر دراصل ان کی نصیحت کے دوسرے پہلو میں شامل ہے۔اگر علاج حق بیان کیا جارہا ہو تو صاف ظاہر ہے کہ جھوٹ کی حکومت ہے اور جھوٹ بیماری ہے جس کے نتیجہ میں انسان گھاٹے میں ہے جب صبر کی نصیحت کی جارہی ہے تو صاف ظاہر ہے کہ ظلم ہورہا ہے اور عدل کا خون ہو رہا ہے۔پس یہ مضمون میں اپنی طرف سے اس چھوٹی سی سورۃ کی طرف منسوب نہیں کر رہا اس سورۃ کے اندر گہرے مطالب پنہاں ہیں جو باقاعدہ تلاش سے دکھائی دینے لگتے ہیں ،نظر آتے ہیں،