خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 105 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 105

خطبات طاہر جلد ۱۲ 105 خطبه جمعه ۵ فروری ۱۹۹۳ء کے آپ دیکھیں تو آپ کو پتا چل جائے گا کہ ہر جگہ پیمانے بدلے ہیں۔کہیں آنکھیں بند کر لی گئیں ہیں تو ذکر ہی کوئی نہیں چل رہا حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ کشمیر میں مسلمانوں پر ایسے زبردست مظالم توڑے جارہے ہیں کہ خود ہندو منصف مزاج لوگوں نے اور صاحب حق لوگوں نے اس کے خلاف بڑی شدت سے آواز اُٹھائی ہے۔حکومت کی قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹیوں نے ثابت کیا ہے کہ ہماری فوج کی طرف سے بہت ہی بہیمانہ مظالم مظلوم مسلمانوں پر توڑے گئے ہیں لیکن آپ کو کوئی ذکر نہیں ملے گا کہ یہاں کوئی واقعہ بھی ہو رہا ہے لیکن عراق کو دیکھیں کہا جاتا ہے کہ اس نے کسی وقت شیعوں پر ظلم کئے تھے یا کر دوں پر کئے تھے چنانچہ ان موہوم ظلموں کی یاد میں عراق کی ساری آبادی کو مظالم کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ایک طرف یہ انصاف ہے، دوسری طرف اسرائیل کا حال ہے کہ تمام دنیا کی اپیلوں کو رد کرتے ہوئے تمام دنیا کی طرف سے بار ہا توجہ دلانے کے باوجود اور یونائیڈ نیشنز میں اس موضوع پر بحثوں کے باوجود اسرائیل اپنی جگہ پر اڑا رہا کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ میں ان چار سونا سوفلسطینی مسلمانوں کو واپس اپنے ملک میں لے لوں، جن کو اسرائیل کی حکومت نے جبراً اپنے ملک سے باہر نکال پھینکا ہے جن کا کوئی بھی ملک نہیں جن کو مدد دینے کے لئے جو کوششیں کی جاتی ہیں ان کی راہ میں بھی خود اسرائیل روک ہے بہت ہی درد ناک حالات میں کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں اُن کے متعلق ساری دنیا کی اپیلیں رد کی جارہی ہیں کہ ہمیں کوئی پرواہ نہیں جب یہ معاملہ سکیورٹی کونسل میں پہنچا تو ابتدائی ریزولیوشن کے الفاظ ( یوں معلوم ہوتا تھا کہ ) اگر منظور ہو گئے تو اسرائیل کے لئے اب کوئی فرار کی راہ باقی نہیں رہے گی بڑے شدت کے الفاظ کے ساتھ جس طرح عراق کے خلاف استعمال کئے گئے تھے اس سے کچھ ملتے جلتے تھے ویسے سخت نہ سہی لیکن ان میں سیکیورٹی کونسل سے یہ مطالبہ تھا کہ ایک ریزولیوشن پاس کرو کہ اگر اسرائیل نے ان چار سو مسلمانوں کو واپس قبول نہ کیا تو اس کے خلاف Sanctions عائد کی جائیں گی یعنی پابندیاں عائد کی جائیں گی کہ اس کے ساتھ تمام دنیا کے تجارتی اور دیگر روابط کٹ جائیں۔اس کا اسرائیل نے جو جواب دیا وہ آپ لوگوں نے ٹیلی ویژن میں بھی دیکھا ہوگا، اخبارات میں بھی پڑھا ہوگا، ریڈیو پرسنا ہوگا، ایسی بے باکی سے سر اُٹھا کر یونائیٹڈ نیشنز کی آواز کو یوں ٹھوکر ماری جیسے کوئی بھونکنے والے کتے کا منہ توڑتا ہے اور امریکہ کے صدر کو مخاطب کر کے کہا ہے کہ تم کر کے تو دیکھو اور پھر اس کا جو نتیجہ نکلا اس پر مجھے پرانے زمانے کا