خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 1008
خطبات طاہر جلد ۱۲ 1008 خطبه جمعه ۳۱ دسمبر ۱۹۹۳ء پروگرام بنا ئیں۔اگر بنگلہ دیش چاہتا ہے کہ بنگلہ دیش میں جماعت کا پروگرام عمدگی سے اعلیٰ مقاصد کو پورا کرتے ہوئے دکھایا جائے تو اصل ذمہ داری بنگلہ دیش جماعت کی ہے کہ وہ بہترین پروگرام تیار کریں اور ہمیں بھجواتے جائیں اور ہمارے پاس وقت اتنا ہے کہ ہم انشاء اللہ کھلا وقت ان کو دیتے چلے جائیں گے۔اگر افریقہ کے کچھ ممالک مثلاً غا نا چاہتا ہے کہ ہماری مقامی زبانوں میں ہمیں ٹیلی ویژن کا پروگرام پہنچایا جائے نائجیر یا چاہتا ہے، سیرالیون چاہتا ہے، گیمبیا چاہتا ہے تو ان سب کا فرض ہے کہ اپنی اپنی زبانوں میں پروگرام بنا ئیں اور ہمیں بھیجتے چلے جائیں یہاں تک کہ بارہ گھنٹے بھی کم ہو جائیں گے اور زیادہ وقت کی ضرورت پڑے اور اس پہلو سے ہم نے معاہدے میں یہ بات شامل کر لی ہے کہ جہاں بارہ گھنٹے سے زائد ہمیں ضرورت پڑے تم نے کسی اور کے پاس یہ وقت نہیں بیچنا بلکہ پہلے گاہک ہم ہوں گے تو انشاء اللہ تعالیٰ جتنے وقت کی ضرورت ہوگی اتنا وقت لے لیا کریں گے جاپان کو چاہئے کہ اپنے لئے جاپانی پروگرام بنائے، کوریا کو چاہئے کہ کورین زبان میں پروگرام بنائیں غرضیکہ اب دنیا کی جماعتوں کے لئے ایک صلائے عام ہے، کھلی دعوت ہے آئیے شوق سے آگے بڑھیں، بھر پور حصہ لیں ، اگر پاکستان چاہتا ہے کہ سندھی پروگرام بھی چلیں اور بلوچی پروگرام بھی چلیں اور سرائیکی پروگرام بھی چلیں اور پنجابی پروگرام بھی چلیں ، اردو پروگرام بھی چلیں تو پاکستان کی جماعتوں کو ایسے پروگرام بنا کر ہمیں بھجوانے چاہیں۔جہاں تک مرکزی پروگراموں کا تعلق ہے اس سلسلے میں سب سے اہم اور سب سے عظیم الشان پروگرام یہ بنایا گیا ہے کہ مسلسل خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بہترین قرآت کے ساتھ روزانہ قرآن کریم کی تلاوت ہوا کرے گی اور ہر آیت کے بعد مختلف زبانوں میں اس کا ترجمہ پیش کیا جایا کرے گا اور امید ہے انشاء اللہ ایک دو سال کے اندر ہم دنیا کی تمام بڑی زبانوں میں روزانہ کچھ نہ کچھ ترجمہ پیش کر سکیں گے۔اب آپ دیکھیں کہ رشین زبان میں جو تر جمہ کیا گیا ہے کتنے ہیں جن تک وہ پہنچ سکتا ہے، کتنے ہیں جو عربی زبان میں اصل متن کو پڑھ بھی سکتے ہیں۔لکھوکھا میں سے ایک بھی نہیں لیکن اچھی تلاوت سے سننا تو اور بھی دل پر اثر کرتا ہے اور اگر اچھی آواز میں پڑھ کر وہ ترجمہ سنایا جائے تو دلوں پر حیرت انگیز اثر چھوڑتا ہے۔اس لحاظ سے قرآنِ کریم کو مختلف زبانوں میں متعارف کرانے کے لئے ہمارے ترجمے کافی نہیں تھے ان کو کتابی صورت میں شائع کر کے بیچنا یا دلچسپی لینے