خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 1005
خطبات طاہر جلد ۱۲ سکتی۔تم بڑھنا کم کر دو، ہلکا کر دو۔1005 خطبه جمعه ۳۱ دسمبر ۱۹۹۳ء وقف جدید کی ٹانگ نے جواب دیا یہ میرے بس کی بات نہیں ہے میں اپنے اختیار سے نہیں بڑھ رہی، مجھے بڑھنا ہی بڑھنا ہے۔اس کی تعبیر کچھ تو چندوں کی شکل میں نظر آ رہی ہے۔جس تیز رفتاری کے ساتھ وقف جدید کے چندے گزشتہ سال کے مقابل پر بڑھ رہے ہیں اتنا تیز اضافہ تحریک جدید میں نہیں ہے۔اس کے علاوہ برکت والی تعبیر کے متعلق امید رکھتا ہوں کہ وہ تعبیر پوری ہو گی اور وہ یہ ہے کہ وقف جدید کے عمل کا میدان ہندوستان، بنگلہ دیش اور پاکستان ہیں۔اس وقت یہ صورت ہے کہ تحریک جدید کے تابع جو دوسری جماعتیں ہیں وہ بہت زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں اس لئے مجھے امید ہے اور میری دعا ہے کہ جہانگیر صاحب کی یہ خواب ان معنوں میں پوری ہو کہ اچانک دیکھتے دیکھتے بنگلہ دیش ہندوستان اور پاکستان کی جماعتیں اس تیزی سے آگے بڑھنے لگیں کہ باہر کی جماعتوں سے آگے نکلنے لگیں اور وہ احتجاجا کہیں کہ تم کچھ بڑھنا کم کر دو اور وہ یہ جواب دیں کہ ہمارے بس کی بات نہیں۔یہ ہمارے رب کی تقدیر ہے جسے ہم بدل نہیں سکتیں اور خدا کرے کہ میری یہ تعبیر کچی نکلے اور اس کو سچا ثابت کر کے دکھلانے میں ان جماعتوں کو جو محنت کرنی ہے، جو دعا کرنی ہے، جس اخلاص سے خدمت کرنی ہے ہم سب مل کر ان کے لئے دعا کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو یہ توفیق بخشے اور واقعہ یہ نظارے ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا آغاز اس ملک سے ہوا جو آج ان تین ملکوں میں بٹا ہوا ہے یعنی بنگلہ دیش، ہندوستان اور پاکستان اور جہاں سے آغاز ہوا اس علاقے کا پیچھے رہ جانا ایک رنگ میں تکلیف کا موجب ہے۔یہ درست ہے کہ وہاں مخالفت بھی غیر معمولی طور پر زیادہ ہوئی ہے لیکن جب خدا تعالیٰ کی تقدیر فیصلہ فرمائے تو مخالفت کی کوکھ سے تائید کے ایسے دریا بہہ نکلتے ہیں اور اس قدر قوت سے وہ چشمے پھوٹتے ہیں کہ پھر دنیا کی مخالفانہ طاقتوں کی کچھ پیش نہیں جاتی۔پس یہ جو آواز عبدالغنی جہانگیر کو سنائی دی گئی ہے کہ وقف جدید ہے کی تحریک کہتی ہے میرا بس کوئی نہیں ، چاہوں بھی تو رک نہیں سکتی اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ کا فضل۔جو مجھے بڑھاتے ہوئے آگے لے جا رہا ہے اس لئے اس معاملہ میں میرا کوئی اختیار نہیں۔خدا کرے جن معنوں میں میں نے اس کی تعبیر سوچی ہے اللہ انہی معنوں میں ہماری تو قعات سے بڑھ کر اس کی تعبیر کو پورا فرمائے۔