خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 1001
خطبات طاہر جلد ۱۲ 1001 خطبه جمعه ۳۱ دسمبر ۱۹۹۳ء امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ تعالیٰ اسی طرح آئندہ بھی جماعت کا قدم ترقی کی طرف رواں دواں رہے گا۔جہاں تک جماعتوں کی آپس کی دوڑ کا تعلق ہے میں نمونہ چند جماعتوں کی مثالیں آپ کے سامنے پیش کرتا رہا ہوں۔آج بھی چند مثالیں آپ کے سامنے رکھنے کے لئے نکالی ہیں۔مجموعی طور پر خدا تعالیٰ کے فضل سے پاکستان کو دنیا بھر کی جماعتوں پر وقف جدید کے چندے کے لحاظ سے سبقت حاصل ہوئی ہے اور وہ باقی ممالک سے نمایاں طور پر آگے ہے۔گزشتہ سال جب جماعتوں کے عام چندوں اور چندہ وصیت وغیرہ کے متعلق میں نے موازنہ پیش کیا تھا اور یہ بتایا تھا جرمنی نے اس سال جماعت کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔اس پر مجھے پاکستان سے بہت سے احتجاج کے خطوط ملے ، شکووں کے خط ملے، جیسے میں نے جرمنی کو زبر دستی آگے کر دیا ہو اور یہ پڑھ کر مجھے لطف آتا تھا کہ ساتھ جوش کا اظہار تھا کہ بس ایک دفعہ غلطی ہوگئی۔اب ہم نے انہیں آگے نہیں نکلنے دینا اور اب ماشاء الله وقف جدید کی رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ انہوں نے جرمنی کو تیسرے نمبر پر کر دیا ہے اور تقریباً جرمنی سے دو گنے وعدے ہیں۔پس اللہ کے فضل سے ساری جماعتیں سبقت فی الخیر کا ایک ایسا جذ بہ رکھتی ہیں کہ اس کی مثال دنیا کی کسی اور قوم کسی اور جماعت میں نہیں مل سکتی۔پاکستان نمبر ایک ہے اور امریکہ چالیس لاکھ تریسٹھ ہزار روپے کی وصولی کے ساتھ دوسرے نمبر پر آتا ہے۔تیسرے نمبر پر جرمنی ہے اور جب تک ماریشس کا نام نہیں آتا میں یہ فہرست پڑھتا چلا جاؤں گا چوتھے نمبر پر کینیڈا ہے، پانچویں نمبر پر برطانیہ ہے، چھٹے نمبر پر انڈیا ہے، ساتویں نمبر پر سوئٹزر لینڈ ہے، آٹھویں پر جاپان ہے۔نویں پر انڈونیشیا اور دسویں نمبر پر ماشاء اللہ ماریشس ہے۔جماعت کی تعداد کے لحاظ سے ماریشس نے خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت نمایاں قربانی کی ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو مبارک فرمائے۔فی کس قربانی کے لحاظ سے سوئٹزرلینڈ نے یہ فیصلہ کر رکھا ہے کہ وقف جدید میں ہم نے دنیا کے کسی اور ملک کو آگے نہیں نکلنے دینا۔اس سال بھی خدا کے فضل سے وہ اس عہد پر قائم رہے چنانچہ فی کس وصولی کے لحاظ سے یعنی (80) اس پونڈ سے کچھ زائد فی کس چندہ وقف جدید ، چندہ دہندگان نے ادا کیا جو خدا کے فضل سے غیر معمولی قربانی ہے کیونکہ بے شمار دوسرے چندے بھی ہیں اور وقف جدیدان میں نسبتاً چھوٹی حیثیت کا چندہ ہے۔اس میں انہوں نے نہ صرف یہ کہ نمایاں طور پر غیر معمولی قدم آگے بڑھایا ہے بلکہ جاپان جو کبھی ان کے قریب تھا اسے تقریباً نصف فاصلے پر پیچھے چھوڑ