خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 996 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 996

خطبات طاہر جلد ۱۲ 996 خطبه جمعه ۲۴ / دسمبر ۱۹۹۳ء کے قدموں میں ان کے پیچھے پیچھے چلنے والے بہنیں مجھے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ قادیان والے ہمیں بہت آسانی سے عمدگی کے ساتھ بغیر کسی مداخل Intruption کے صاف دیکھ رہے ہیں اور چونکہ میں بھی وہاں سے ہو آیا ہوں۔میں جانتا ہوں کہ کس قسم کے لوگ کون کون کہاں کہاں سے آئے ہوتے ہیں۔میں بھی تصور کی آنکھ سے، صلى الله ان کو دیکھتا ہوں اور ان سب کو اپنی طرف سے بھی اور آپکی طرف سے بھی محبت بھر اسلام پہنچا تا ہوں۔حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ ایک اور رات کا ذکر ہے ( پہلے بھی بے چاری اٹھ کر ڈھونڈنے کے لئے گئی تھیں ) عورتوں کو تو وہم ہی ہوتے ہیں کہ ہمارا خاوند ہم سے ہٹ کر کسی اور کے پاس تو نہیں چلا گیا۔آنحضرت ﷺ کی اور بھی ازواج تھیں۔حضرت عائشہ سے بہت محبت فرماتے تھے مگر عورت کا دل عورت ہی کا دل ہے تو راتوں کو اٹھ کر دیکھا کرتی تھیں کہ ہیں بھی یہاں کہ نہیں۔ایک دفعہ پہلے کہا کہ میں نے دیکھا تو آپ نہیں تھے۔میں گھبرا کے نکلی تو دیکھا کہ آپ سجدہ ریز تھے۔اب کہتی ہیں کہ ایک دفعہ میں پھر اٹھی اور آپ نہیں تھے اور مجھے یہ خیال آیا کہ آپ کسی اور صلى الله بیوی کے پاس چلے گئے ہوں گے۔اسی تلاش میں باہر نکلی تو دیکھا کہ محمد رسول اللہ نے سجدہ ریز تھے۔رکوع کر رہے تھے اور پھر سجدہ کے عالم میں چلے گئے اور یہ دعا کر رہے تھے کہ اے میرے اللہ تو اپنی تعریف کے ساتھ پاک ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور تیرا اور کوئی شریک نہیں۔سبحان اللہ و بحمده والا مضمون عرض کر رہے تھے۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں تو آپ کے بارے میں کچھ اور سوچ رہی تھی آپ تو کسی اور عالم میں نکلے۔مجھے کیا پتا تھا کہ یہ اللہ کے عشق اور اللہ کی محبت میں مبتلا ہو کر بیویوں کے دامن چھوڑ کر باہر نکل جاتا ہے۔پس یہ ہے ذکر کا انداز جو محمد رسول اللہ اللہ کے ذکر کا انداز تھا۔عن مطرف عن ابيه قال: رأيت رسول الله يصلی و فی صدره ازیر کازیر الرحى من بكائه (ابو داود ، كتاب الصلواة، باب البكاء في الصلواۃ حدیث: ۷۶۹) حضرت مطرف روایت کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو ایک دفعہ نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔آپ کی گریہ وزاری کی وجہ سے آپ کے سینہ سے ایسی آواز میں نکلتی تھیں کہ جیسے چکی چل رہی ہو۔ایسے گڑ گڑا، گڑ گڑا کر آپ اللہ کا ذکر فرمارہے تھے اور اس کی محبت میں اس کی حمد و ثناء اور حمد کے گیت گا رہے تھے کہ آواز سے ایسے لگتا تھا کہ آپ کے سینہ میں چکی چل رہی ہو۔