خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 96 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 96

خطبات طاہر جلد ۱۲ 96 خطبہ جمعہ ۲۹؍ جنوری ۱۹۹۳ء کی خاطر یہ بڑا دردناک جہاد کر رہے ہیں تو جماعت احمدیہ کو انفرادی طور پر یا جماعتی طور پر جسمانی لحاظ سے جہاد میں شرکت کی توفیق نہیں ہے تو مالی لحاظ سے تو کر سکتی ہے۔چنانچہ ہم بڑے وسیع پیمانے پر رابطے بڑھا رہے ہیں۔بعض ملکوں میں پچاس پچاس ہزار بوسنین مہاجرین ہیں اور ان کی حالت یہ ہے کہ جب ان کو کہا جاتا ہے کہ اپنی ضرورت بتاؤ تو وہ بوسنیا کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ہمارے بھائیوں پر خرچ کرو جو بڑی عظیم قربانیاں دے رہے ہیں۔وہاں جب میں نے وفد بھجوانے شروع کئے یعنی جماعت کو تو فیق ملی تو ایک رپورٹ آئی کہ اس میں کچھ جرمن نیک دل لوگ بھی شامل ہو گئے اور جماعت کے نمائندوں نے ٹرک لیا اور مال لے کر وہاں پہنچے تو کہتے ہیں کہ اتنے دردناک حالات تھے کہ وہ جرمن جو غیر مسلم تھے ان کی چھینیں نکل گئیں۔سخت سردی میں معصوم بچوں نے جن کے پاس چھوٹے بوٹ تھے انہوں نے آگے سے بوٹ کاٹ کرتا کہ پاؤں کو آگے سے چھے نا اور پنجہ دبے نا، آدھا پاؤں باہر نکلا ہوا تھا اور کپڑے پورے نہیں تھے فاقوں کا شکار۔کہتے ہیں کہ سب سے زیادہ یہ اثر ہمارے دل پر اس وقت ہوا جب ہم نے کہا کہ ہمیں اور بتاؤ کہ تمہیں کیا ضرورت ہے ہم پھر آئیں گے تو انہوں نے کہا کہ پھر ہماری طرف نہ آؤ ان مجاہدوں کی طرف جاؤ جو بڑے دردناک حالات میں نہتے لڑ رہے ہیں اور ان کی مدد کرو تو جماعت کو اس سلسلہ میں دل کھول کر آگے قدم بڑھانا چاہئے۔خدا تعالیٰ جماعت کے اموال میں برکت پر برکت دیتا چلا جائے گا۔یہ روپیہ کم نہیں ہو گا جتنا نکالیں گے اتنا بڑھے گا۔مختصر ا آپ کے سامنے ایک خط کا اقتباس پڑھ کر سناتا ہوں اور پھر یہ خطبہ ختم ہوگا۔رانا فیض بخش صاحب نون لکھتے ہیں کہ گزشتہ سال میرا کل بجٹ اکیس سوروپے تھا۔میں نے فیصلہ کر لیا کہ تمام ضرورتوں کو پس پشت ڈال کر کپاس کی پہلی چنائی پر سالم چندہ ادا کر دوں گا۔چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا، رو پیادا کر دیا۔ہفتہ عشرہ کے بعد AG، آفس ملتان سے اطلاع ملی کہ آپ کی پنشن -/268 روپیہ ماہوار کے حساب سے بڑھادی گئی اور 840 روپے کی بجائے اب آپ کو 1108 روپیہ ماہوار ملا کرے گی۔اس کے علاوہ 3300 روپے سابقہ بقایا خزانے سے وصول کر لیں۔کہتے ہیں یہ ایک مثال نہیں فرماتے ہیں۔ساری زندگی میں نے تو یہی دیکھا ہے کہ خدا کی خاطر جب کچھ دیا ہے اور اسی وقت نقد اس کی ادائیگی ہوئی ہے۔یہ بتانے کے لئے کہ آئندہ مرنے کے بعد