خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 408
خطبات طاہر جلد ۱۱ 408 خطبہ جمعہ ۱۹ جون ۱۹۹۲ء طرف ہدایت کرتے ہوئے ، راہنمائی کرتے ہوئے لے جاتے ہیں۔ایک وہ ہیں جو بلند مراتب یا اعلیٰ مقاصد کو پا چکتے ہیں ان کو حاصل کر لیتے ہیں اور حاصل کرنے کے بعد ، ان سب راہوں سے پوری طرح واقف ہونے کے بعد جن راہوں کو ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے اختیار کرنا پڑتا ہے پھر دنیا کو اپنی طرف بلاتے ہیں اور دنیا کو یا اپنے دوسرے ساتھیوں کو ان مقاصد کی طرف راہنمائی کرتے ہوئے بالآخر وہاں پہنچا دیتے ہیں اور ایک تیسری قسم یہ ہے کہ نہ وہ آثار پڑھ سکتے ہیں نہ وہ مقصد کو پانے والے ہوتے ہیں بلکہ محض سرداری کے شوق میں دنیا کو دھوکہ دیتے ہوئے دنیا کو ایسی چیزوں کی طرف بلاتے ہیں جن کی ان کو کچھ بھی خبر نہیں ہوتی اور یہ بھی دو قسم کے ہیں۔ایک وہ جو بالا رادہ دھوکہ دیتے ہیں اور جانتے ہیں کہ جس کی طرف بلا رہے ہیں وہ کچھ بھی نہیں ہے اور ایک وہ جو غفلت کی حالت میں بعض عقائد یا بعض جاہلانہ خیالات کو ورثہ میں پالیتے ہیں اور کبھی ہوش کی آنکھ سے یہ نہیں دیکھتے کہ ان باتوں میں کوئی حقیقت بھی ہے کہ نہیں۔چنانچہ اس طرح خود بھی اندھے ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی اندھوں کی طرح ایک ایسی چیز کی طرف ہدایت دیتے ہیں جس طرف جانے کی ان میں صلاحیت ہی کوئی نہیں اور جس کی حقیقت کا ان کو علم نہیں ہے۔قرآن کریم نے ان سب مثالوں کو خوب کھول کر واضح فرمایا ہے۔عجیب بات یہ کہ پہلی دو قسم کی مثالیں جانوروں میں ملتی ہیں لیکن آخری قسم کی مثال جانوروں میں دکھائی نہیں دیتی۔آپ کو جانور کہیں بھی دوسرے جانوروں کو دھوکہ دیتے ہوئے دکھائی نہیں دیں گے۔کہیں جانور ایک ایسے بلند مقصد کی طرف بلاتے ہوئے دکھائی نہیں دیں گے جن کے متعلق ان کو کچھ بھی علم نہ ہولیکن اشرف المخلوقات میں یہ تینوں قسمیں ملتی ہیں اور سب سے زیادہ قسم آخری قسم ہے یعنی دھوکہ دینے کی حالت میں لوگوں کو ایک بلند مقصد کی طرف بلانا یا غفلت کی اور جہالت کی حالت میں اس کو چہ سے کلیہ بے خبر ہونے کے باوجو دلوگوں کو ایسے مقصد کی طرف بلانا جس سے ان کو کوئی آگا ہی نہیں۔قرآن کریم نے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو ان لوگوں میں سر فہرست رکھا ہے جو مقصد کو پالینے کے بعد، اس کے کوچوں کے آداب سے خوب آشنا ہونے کے بعد اُن کی کنہ کو سمجھنے کے بعد اور ہر پہلو سے ان کی خوبیوں اور ان کے خطرات سے واقف ہونے کے بعد پھر وہ دنیا کو یا دوسروں کو اُس بلند مقصد کی طرف بلاتے ہیں۔یہ کیسے ہوا ؟ کس طرح حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ اس کے اہل