خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 788
خطبات طاہر جلدا 788 خطبہ جمعہ ۶ رنومبر ۱۹۹۲ء گی۔ہر ابتلا ء نے جماعت کو طاقت بخشی ہے کمزور نہیں کیا۔پس یہ ابتلاء کوئی نئی نوعیت کا ابتلاء نہیں سو سال سے ہمارے آزمودہ ابتلاؤں میں سے ایک ابتلاء ہے۔اس کے نتیجے کے متعلق جماعت احمدیہ کو ادنی سا بھی شک نہیں ہے۔ابھی پچھلے دنوں کینیڈا میں جو مسجد کے افتتاح کی تقریب تھی اس سے متعلق دنیا سے جو اطلاعات مل رہی ہیں ان سے تو پتا چلتا ہے کہ بہت سے غیر احمدیوں نے جو وہ نظارے دیکھے ہیں تو حیران ہو گئے ہیں کہ جماعت کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے۔پاکستان کے ایک احمدی صحافی نے مجھے خط لکھا جو کل ہی ملا ہے وہ لکھتے ہیں کہ وہاں کے نامور صحافی ہیں جو مذہبی امور میں لکھنے کی شہرت رکھتے ہیں اور ان کا معروف نام ہے سارے پاکستان میں وہ مجھے ملنے آئے اور سر پھینکا ہوا اور ایسی عجیب کیفیت تھی جیسے تکلیف کی حالت میں ہوں اور انہوں نے مجھے بتایا کہ رات میں نے ایک احمدی کے گھر کینیڈا میں منعقد ہونے والی مسجد کی کارروائی دیکھی اور ساری رات میں اس بات پر پچھتاتا رہا کہ ہم کیا کر بیٹھے ہیں اور کیا ہماری عقلوں پر گزری، ہم نے کیا کر دیا کہ جماعت احمدیہ کو جس کے نتیجے میں جماعت کو خود اتنی بڑی ترقیات نصیب ہو گئیں ہمارے وہم و گمان میں بھی یہ باتیں نہیں تھیں۔یہ الفاظ بعینہ وہ نہیں ہیں لیکن جو مضمون مجھے لکھا گیا اس کا ماحصل یہ ہے جو میں آپ کو بتا رہا ہوں۔تو یہ جو خیال ہے یہ دن بدن بڑھ رہا ہے۔اخبار اہلحدیث کی ایک تحریر بھی میں نے پڑھ کے سنائی تھی اور اس سے بھی پتا چلتا ہے کہ بالآخر وہ وقت آن پہنچا ہے کہ یہ شدید ترین مخالفین بھی محسوس کرنے لگے ہیں کہ ہماری کوششیں حقیقت میں ناکام رہی ہیں ، نامراد ر ہی ہیں، برعکس نتیجے پیدا کرنے والی ہیں اور جماعت احمدیہ کو کمزور کرنے کی بجائے ہم اپنی کارروائیوں کے نتیجے میں ان کے لئے مزید طاقت کا سامان پیدا کر چکے ہیں۔دراصل ملاں نے کیا طاقت بخشنی ہے کسی کو۔ہوتا یہ ہے کہ ملاں کی ہر ذلیل کارروائی کے نتیجے میں اللہ تعالی طاقت بخشتا ہے اور یہ بات ان کو دکھائی نہیں دے رہی۔اگر یہ بات عوام الناس کو سمجھ آ جائے یا دانشوروں کو سمجھ آ جائے تو آئندہ ان کے جو لائحہ عمل ہیں وہ اس کی روشنی میں بالکل بدل جائیں گے لیکن مشکل ان کے لئے یہ ہے کہ اگر ہمیں چھوڑ دیں تب ہم ترقی کرتے ہیں، ہمارے پیچھے پڑیں تب ہم ترقی کرتے ہیں یعنی جائیں تو کہاں جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اوپر حضرت مسیح کا ہی یہ مشہور مقولہ صادق آتا ہے کہ میں کونے کا پتھر ہوں جو مجھ پر گرے گاوہ پاش پاش ہو جائے