خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 90 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 90

خطبات طاہر جلدا 90 90 خطبہ جمعہ کے فروری ۱۹۹۲ء خبر نہ دوں جو تمہیں دردناک عذاب سے بچائے گی۔دنیا کی کوئی تجارت ایسی نہیں جو کسی کو دردناک عذاب سے بچا سکے۔پس تجارتوں کے دور میں جبکہ دنیا کی توجہ بیع کی طرف ہو اس وقت ایک ایسی تجارت کی خوشخبری دینا جو ہر قسم کے درد ناک عذاب سے نجات کی ضمانت دیتی ہو ایک بہت عظیم الشان خوشخبری ہے فرمایا وہ کیسے ہوگا؟ تُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَ رَسُولِهِ یہ تجارت اس طرح کی جاتی ہے کہ تم اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور پھر اُس کی راہ میں اپنے اموال اور اپنی جانوں کا جہاد کرو یعنی اس تجارت کو تم اس طرح پاؤ گے کہ تم خدا پر ایمان لاؤ گے اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ گے اور خدا اور اس کے رسول کی راہ میں اپنے اموال کا بھی جہاد کرو گے اور اپنی جانوں کا بھی جہاد کرو گے۔ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ اگر تمہیں پتا ہو کہ اس تجارت کے کیسے کیسے فوائد ہیں اگر تم اس تجارت کی حقیقت سے آگاہ ہو جاؤ تو تمہیں سمجھ آئے گی کہ یہ تجارت تمہارے لئے ہر دوسری چیز سے بہتر ہے۔ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُم۔یہ ایسی تجارت ہے جس میں بھلائی ہی بھلائی ہے اور کوئی نقصان کی بات نہیں۔اِنْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ کا یہ بھی معنی لیا جا سکتا ہے کہ کاش تمہیں علم ہوتا ، کاش تم سمجھ سکتے اگر تم سمجھ سکتے تو ضرور یہ بات مان لیتے کہ اس تجارت میں بہت بڑے فوائد ہیں اور کچھ فوائد خدا اس کے بعد گن کر بتاتا ہے۔فرمایا: يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ۔اس تجارت کا ایک بڑا فائدہ تو یہ ہوگا کہ خدا تمہارے گناہوں سے مغفرت کا سلوک فرمائے گا۔کون انسان ہے جو یہ دعوی کر سکے کہ میں گناہ گار نہیں ہوں ؟ جو گناہ گار نہیں تھے وہ بھی استغفار ہی کرتے رہے۔سب سے بڑھ کر معصوم اور قطعی طور پر معصوم حضرت اقدس محمد مصطفے ﷺ کی ذات تھی۔آپ کا بھی لمحہ لمحہ استغفار میں گزرا۔پس وہ لوگ جو حقیقۂ گناہوں میں ڈوبے پڑے ہیں اور کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب کسی نہ کسی گناہ میں ملوث نہ ہو جاتے ہوں ان کے لئے کتنی بڑی خوشخبری ہے۔فرمایا تم اس تجارت میں لگ جاؤ تو ہم تم سے وعدہ کرتے ہیں کہ تمہارے گناہوں سے صرف نظر فرمائیں گے اور انہیں بخش دیں گے۔وَيُدْخِلُكُمْ جَنَّتٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهُرُ اور ایسی جنتوں میں تمہیں داخل کریں گے جہاں نہریں بہتی ہوں۔تمہاے قدموں تلے نہریں بہہ رہی ہوں۔وَمَسْكِنَ طَيِّبَةً اور بہت ہی پاکیزہ گھر میسر ہوں۔فِي جَنَّتِ عَدْنٍ۔ایسی جنتوں میں جو ہمیشگی کی جنتیں ہیں کوئی عارضی مقام نہیں ہے، کوئی ایسا گھر نہیں ہے جو آج لیا اور کل بیچ دیا آج ملا