خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 930 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 930

خطبات طاہر جلد ۱۱ 930 خطبه جمعه ۲۵ / دسمبر ۱۹۹۲ء فی کس قربانی میں جاپان حسب سابق نمبر ایک ہے۔یہ وہ میدان ہے جس میں وہ ماشاء اللہ کسی کو آگے نہیں نکلنے دیتے۔اس وقت وہ میری بات سن رہے ہونگے اور ضرور ہنس رہے ہونگے کہ الحمد للہ پھر بھی ہمارا نام آیا ہے۔اللہ کرے کہ آپ کا نام آگے رہے مگر دوسروں کو بھی میں کہتا ہوں کہ جاپان کو ہرانے کی کوشش تو کریں۔اس کے ہارنے سے مجھے خوشی نہیں ہوگی ، آپ کے جیتنے سے خوشی ہوگی، خوشی تو پھر بھی خوشی رہے گی۔اس پہلو سے گوئٹے مالا دیکھیں ماشاء اللہ نمبر دو گیا ہے۔جاپان میں وقف جدید کافی کس چندہ ۳۶۔۲۰ پاؤنڈ ہے اور گوئٹے مالا میں ۲۰۔۳۴ پاؤنڈ ہے۔یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے جو انہوں نے حاصل کیا ہے کیونکہ گوئٹے مالا نسبتا ایک بہت غریب ملک ہے اور وہاں فی کس احمدی کی آمد دنیا کی دوسری جماعتوں سے بہت کم ہے لیکن اللہ کا بڑا احسان ہے کہ ان کو اس میدان میں بہت آگے بڑھنے کی توفیق عطا ہوئی۔حکیم نمبر تین - بیلجئیم بھی ان جماعتوں میں سے ہے جو خدا کے فضل سے تیزی سے ترقی کر رہی ہیں۔جماعت پنجم آگے بڑھ رہی ہے۔تبلیغ میں بھی بیدار ہو رہی ہے چندوں میں بھی آگے نکل رہی ہے۔کیپٹن شیم خالد صاحب جو پہلے نیوی میں ہوا کرتے تھے، وقف کر کے بڑے ولولے اور بڑی قربانی کی روح کے ساتھ انہوں نے اپنے آپ کو سلسلہ کی خدمت کے لئے پیش کیا تھا۔کافی لمبا عرصہ فرانسیسی کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اور مرکزی دفتروں میں تجر بے حاصل کرنے کے بعد اب بیلجیئم میں امیر جماعت ہیں اور مبلغ انچارج بھی۔تو جب سے یہ تشریف لائے ہیں خدا کے فضل سے جماعت بڑی تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ان کی فی کس اوسط ۸۸۔۳۲ پاؤنڈ ہے۔اور تحکیم کے احمدیوں کے حالات میں جانتا ہوں معمولی آمد کے لوگ ہیں کوئی غیر معمولی کمائی والے میں نے وہاں نہیں دیکھے اس لحاظ سے خدا کے فضل سے بہت اعلیٰ پائے کی قربانی ہے۔سوئٹزر لینڈ ۲۳ پاؤنڈ فی کس کے حساب سے نمبر چار بنتا ہے۔سوئٹزر لینڈ کے سلسلہ میں ایک تصحیح بھی ضروری ہے تحریک جدید کے نئے سال کا اعلان کرتے وقت فی کس نمایاں قربانی کرنے والی جماعتوں میں سوئٹزر لینڈ کا نام شامل ہونے سے رہ گیا تھا۔انکا معیار قربانی دراصل ۱۲۱ پاؤنڈ فی چندہ دہندہ تھا جبکہ غلطی سے ۱۲ پاؤنڈ لکھا گیا یعنی ۱۲۱ میں سے آخری ایک لکھنے سے رہ گیا تو میں نے جب ۱۲ پاؤنڈ اعلان کیا تو وہاں سے بہت دردناک احتجاج کا خط آیا کہ ہم تو چندے اکٹھے کرتے کرتے رہ گئے