خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 916
خطبات طاہر جلد ۱۱ 916 خطبہ جمعہ ۱۸؍ دسمبر ۱۹۹۲ء میں تمہیں متنبہ کرتا ہوں کہ تم سے کچھ ہو جائے گا۔اگلا خطبہ آنے سے پہلے پہلے آسمان میں ان کا جہاز پھٹ گیا اور اس کے ساتھ ان کا سارا تکبر تر بتر ہو گیا اور ذرہ ذرہ ہو کر بکھر گیا۔تین واقعات گزر چکے ہیں۔ایک بھی ان میں استثناء نہیں ہوا۔یہ تین ہی ہیں جنہوں نے اس تمام تاریخ میں جماعت کو غیر مسلم قرار دینے میں مرکزی حیثیت مرکزی کردار ادا کیا تھا اگر یہ مجاہد اول تھے ، اگر خدا کی خاطر اور خدا کے دین کی خاطر اور محمد مصطفیٰ رسول اللہ ﷺ کے عشق میں ایسا کیا گیا تھا تو کیسا ظالم خدا ہے جو ہر ایسا کرنے والے کے ہاتھ کاٹ دیتا ہے، اس کا سر پاش پاش کر چھوڑتا ہے اور اس سے ایسا سلوک ہوتا ہے جو اس جیسوں سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔یہ تمام خدا کے غیر معمولی تقدیر کے مظہر بن چکے ہیں۔کبھی پاکستان کے کسی سربراہ کو پھانسی نہیں دی گئی، کبھی پاکستان کے کسی سربراہ کا جہاز اس طرح آسمان میں پھٹ کر ریزہ ریزہ نہیں ہوا۔کبھی سعودی عرب کا کوئی بادشاہ اپنے عزیزوں کے ہاتھوں اس طرح ذلت کے ساتھ قتل نہیں ہوا تو اگر بنگلہ دیش کی وزیر اعظم محترمہ نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ وہ تین کو چار کرنے والی ہوں گی یعنی ان معنوں میں تو ان کی مرضی ہے۔کوئی ان کو روک نہیں سکتا۔مگر خدا کی تقدیر کو بھی کوئی روک نہیں سکتا۔آپ جو چاہیں کریں خدا کی تقدیر ضرور آپ کا تعاقب کرے گی اور آپ کو چھوڑے گی نہیں۔یہ ایک عاجزانہ نصیحت ہے۔یہ ان معنوں میں پیشگوئی نہیں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے معین آپ کے متعلق بتایا ہے مگر میں آپ کو یہ بتا دیتا ہوں کہ میں نے ان تین واقعات سے ایک ایسا قطعی نتیجہ نکالا ہے جس پر بنا کرتے ہوئے میں سمجھتا ہوں کہ آپ کو استغفار سے کام لینا چاہئے تو بہ کرنی چاہئے۔اپنے ملک کو ان مصائب میں نہ دھکیلیں جو مصائب ایسے ظلم کے بعد ضرور پیچھا کیا کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو تو فیق عطا فرمائے اور بنگلہ دیش کے غریب مسلمانوں کا حامی و ناصر ہو۔آمین جنازہ ہوگی۔خطبہ ثانیہ سے پہلے حضور انور نے فرمایا کہ آج نماز جمعہ وعصر کے بعد ان دونوں شہداء کی نماز