خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 908
خطبات طاہر جلدا 908 خطبه جمعه ۱۸ دسمبر ۱۹۹۲ء احمدی ہو جائیں اور پھر تاریں دینے لگ جاتے ہیں کہ سو احمدی کے لئے دعا ئیں شروع کر دیں اور سارا سال خود تبلیغ کے لئے اُنگلی بھی نہیں ہلائی ہوتی۔ چپ کر کے بیٹھے رہتے ہیں اور جب وقت گزرنے کے قریب آجائے تو کہتے ہیں جی ! ابھی تک سو احمدی نہیں ہوئے اور ان سے اگر پوچھا جائے کہ آپ نے دس سال ہوئے ارادہ کیا تھا ۔ ہر سال سال کے آخر پر آپ دُعا کے لئے خط بھی لکھتے رہے اور تاریں بھی دیتے رہے لیکن دس سال میں ایک بھی نہیں بنا تو سو کا دعویٰ کرنے کا آپ کو کیا حق ہے۔ سو کا بلند ارادہ قائم کرنے کا آپ کو کیا حق ہے۔ صداقت سے کام لیں۔ انصاف سے کام لیں جتنی توفیق ہے اس کے مطابق کوشش کریں بڑے بڑے وعدوں سے تو کام نہیں بنے گا ۔ پس صلاحیت کا صحیح تخمینہ کرنا بھی تو ایک بڑا کام ہے۔ دعوت الی اللہ کے جو سیکرٹری ہیں ان کا اور اصلاح وارشاد کے جو سیکرٹری ہیں اگر الگ الگ ہیں تو آپس میں مشورہ کے ذریعے اور اگر ایک ہی ہے تو اپنے دوسرے ساتھیوں سے مشورے کے ذریعہ صلاحیتیوں کا تخمینہ کرنا چاہئے اور صلاحیتوں کا تخمینہ محض اعداد سے نہیں ہو سکتا کہ اتنے احمدی ہیں اس لئے اتنے ضرور بن جائیں گے۔ صلاحیتوں کا تخمینہ اس بات سے بھی نہیں ہو سکتا کہ کس نے کتنا وعدہ کیا ہے؟ صلاحیتوں کا تخمینہ اس بات سے ہوگا کہ سیکرٹری اصلاح و ارشاد یا سیکرٹری دعوت الی اللہ ان احمدیوں کا جائزہ لے اور ان کا تخمینہ لگائے کہ کس میں کتنی صلاحیت ہے جس نے گزشتہ دو چار سال میں ایک دو پیدا کیے ہیں ان کی صلاحیت بڑھانے کی طرف کوشش کرے وہ قطعی صلاحیت ہے جو نئے شامل ہو رہے ہیں ان کا جائزہ لینا ، ان سے قریب کا تعلق قائم کرنا اور ان کی صلاحیتوں کا اندازہ ہی نہیں لگانا بلکہ ان کی خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کرنا ، ان کی صلاحیت کو مزید صیقل کرنا یہاں تک کہ تسلی ہو جائے کہ ہاں یہ اب ایک یا دو یا چار یا پانچ احمدی بنانے کا اہل ہو چکا ہے اس کو صلاحیت کا تخمینہ کہتے ہیں۔ محض رپورٹ میں لکھ دینا کہ جی ہم نے دس ہزار کا وعدہ کر لیا ہے۔ دس ہزار بنا کر چھوڑیں گے اور آخر پر پانچ یا دس نکلتے ہیں اور وہ بھی وہی جو پہلے ہی کام کر رہے ہیں۔ انہی کے کاموں کے نتیجہ میں نکلتے ہیں ۔ تو یہ صورت حال جو ہے اس کو پیش نظر رکھ کر امراء کو چاہئے کہ وہ اپنے سیکرٹری اصلاح وارشاد سے بھی ایک میٹنگ کریں ۔ جائزہ لیں کہ جب سے وہ بنائے گئے ہیں انہوں نے کیا سوچا ہے؟ کیا کچھ کیا ہے؟ اس کے نتیجہ میں جماعت میں کیا ولولہ پیدا ہوا ہے؟ کیا بیداری پیدا ہوئی ہے؟ پھر ولولے